ہندوستان کی قیادت میں منعقدہ 18ویں برکس اجلاس کے دوسرے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ’’قومی خودمختاری کے تحفظ اور طاقت کے استعمال کی روک تھام کے لیے برکس کو مزید مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اگر فوجی جارحیت، لوگوں کے قتل اور ان کی زندگیوں کو برباد کیے جانے پر بین الاقوامی سطح پر مؤثر ردعمل سامنے نہیں آتا تو بین الاقوامی قانون کی بات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے برکس کو قومی خود مختاری، ممالک کی علاقائی سالمیت اور طاقت کے استعمال پر روک تھام کے تحفظ میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔‘‘’دنیا کو امن کی ضرورت‘، برکس سربراہی اجلاس میں اقوام متحدہ کے سربراہ کی تنازعات روکنے کی اپیلایرانی صدر نے مزید کہا کہ یکطرفہ پابندیاں اب صرف اقتصادی مسئلہ نہیں رہ گئی ہیں بلکہ ان کا براہ راست اثر غذائی تحفظ اور عام لوگوں کی فلاح و بہبود پر بھی پڑتا ہے۔ ان کے مطابق برکس ممالک کو قومی کرنسیوں میں تجارت بڑھا کر اور نیو ڈیولپمنٹ بینک (این ڈی بی) کو مضبوط بنا کر رکن ممالک کی اقتصادی مضبوطی کے لیے مشترکہ صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کے بغیر اقتصادی مضبوطی طویل عرصے تک پائیدار نہیں ہو سکتی۔مسعود پیزشکیان نے یہ بھی کہا کہ ان کے خطے میں حالیہ واقعات، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی فوجی کارروائی نے یہ ظاہر کیا ہے کہ کسی ملک کی معیشت، توانائی کے نظام اور ترقی سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے اثرات بہت جلد اس ملک کی سرحدوں سے باہر نکل کر پورے خطے اور دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔ پیزشکیان کے مطابق ان حملوں کی بھاری قیمت ایرانی عوام کو چکانی پڑی ہے۔ مردوں، خواتین، بچوں اور دیگر شہریوں نے اپنی جانیں گنوائی ہیں۔ ملک کی ترقی کے لیے کئی دہائیوں میں تیار کیے گئے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ یہ واقعات بین الاقوامی برادری کی اس بڑی ذمہ داری کی یاد دہانی کراتے ہیں جس کے تحت شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے اور شہری ٹھکانوں پر حملوں کو معمول یا قابل قبول نہیں بننے دینا چاہیے۔