کارپوریٹ کمپنیوں کے لیے یوں کھلتے جا رہے ہیں راستے!...رشمی سہگل

Wait 5 sec.

کیا ’مائنز اینڈ منرلز (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ترمیمی ایکٹ 2026‘ (ایم ایم ڈی ٹی آر) چند منتخب کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے پارلیمنٹ میں عجلت کے ساتھ منظور کرایا گیا؟ اس قانون کی منظوری کی رفتار غیر معمولی رہی: 10 اگست کو لوک سبھا میں پیش کیا گیا، 13 اگست کو دونوں ایوانوں سے منظور ہوا اور 17 اگست کو گزٹ میں اس کی اطلاع جاری کر دی گئی۔ بظاہر کان کنی کے لیے یکساں ٹیکس نظام کے نام پر لائے گئے اس قانون کا مقصد دراصل بڑے صنعتی گھرانوں پر جھارکھنڈ، اوڈیشہ، کرناٹک اور کیرالہ جیسی معدنی دولت سے مالا مال ریاستوں کے کروڑوں روپے کے بقایاجات معاف کرنا معلوم ہوتا ہے۔ان واجبات کا حجم ’منرل ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی بنام اسٹیل اتھارٹی آف انڈیا‘ مقدمے کی سماعت کے دوران سامنے آیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں نو رکنی آئینی بنچ نے کی تھی۔ فیڈریشن آف انڈین منرل انڈسٹریز نے عدالت کو بتایا تھا کہ ٹیکس بقایاجات کی وصولی سے کان کنی کی صنعت کو 1.5 سے 2 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔ تاہم آزاد ماہرین کے مطابق اصل رقم اس سے کہیں زیادہ، یعنی کھربوں روپے تک ہو سکتی ہے۔صرف جھارکھنڈ کا دعویٰ ہے کہ ایسٹرن کول فیلڈز لمیٹڈ جیسے مرکزی سرکاری شعبے کے اداروں (پی ایس یوز) اور نجی کان کنی کمپنیوں پر ریاست کے تقریباً 1.36 لاکھ کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔ اس میں کان کنی سے متعلق بقایا رقم، زمین کا معاوضہ اور ٹیکس کے واجبات شامل ہیں۔2024 کے ایک اہم فیصلے میں سپریم کورٹ نے معدنی وسائل سے مالا مال ریاستوں کے اس حق کو برقرار رکھا تھا کہ وہ یکم اپریل 2005 سے معدنی زمین پر ٹیکس اور سیس (محصول) عائد کر سکتی ہیں۔ بقایا رقم کی ادائیگی قسطوں میں کی جا سکتی تھی۔ اس فیصلے نے 35 سال پرانے تنازعے کا بھی خاتمہ کر دیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ کان کنی کے لیز ہولڈر کی جانب سے ادا کی جانے والی رائلٹی کوئی ٹیکس نہیں بلکہ معدنی حقوق کے استعمال کے عوض معاہدے کے تحت کی جانے والی ادائیگی ہے۔جھارکھنڈ نے سخت اقدامات کرتے ہوئے رواں سال کے آغاز میں ہندوستان کوکنگ کول لمیٹڈ سے 200 کروڑ روپے کی وصولی میں کامیابی حاصل کی۔ دوسری جانب ٹاٹا اسٹیل نے اپنے مالیاتی گوشواروں میں 17,347 کروڑ روپے کی ممکنہ ذمہ داری ظاہر کی ہے۔ اس فیصلے کا اثر دیگر کان کنی کمپنیوں اور سرکاری اداروں پر بھی پڑا۔ اگرچہ ریاستی محکموں نے اڈانی، آدتیہ برلا اور ویدانتا جیسے گروپوں کی کمپنی وار واجبات کی تفصیلات یکساں طور پر جاری نہیں کیں، تاہم اس ترمیم کے صنعت پر وسیع اثرات سے انکار ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے ویدانتا ریسورسز کو ان کمپنیوں میں شمار کیا تھا جو اس فیصلے سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں۔ ویدانتا نے 2023-24 کے دوران رائلٹی کی مد میں 6,249 کروڑ روپے ادا کیے تھے، جو اس کے کان کنی کے کاروبار کے حجم کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے۔2026 کی ترمیم نے صورت حال کو یکسر بدل دیا ہے۔ اس کے تحت ریاستی حکومتوں کو معدنی حقوق اور معدنی زمینوں پر آزادانہ طور پر نئے ٹیکس، سیس یا مقامی محصولات عائد کرنے سے روک دیا گیا ہے اور ایسی زمینوں کو مرکز کے براہِ راست ضابطہ جاتی دائرے میں لایا گیا ہے۔ ’سیکشن ڈی‘ جیسی شق ریاستوں کو مرکزی حکومت کی منظوری کے بغیر الگ سے مقامی ٹیکس یا اضافی محصول عائد کرنے سے روکتی ہے۔ ترمیم سے قبل عائد کی گئی ایسی ٹیکس طلبیاں بھی، جن کی ادائیگی یا وصولی نہیں ہوئی، کالعدم قرار دی گئی ہیں۔ اس طرح مرکز اور ریاستوں کے مالیاتی تعلقات کا توازن تبدیل ہو جاتا ہے، جو آئین میں تصور کیے گئے وفاقی ڈھانچے سے ہم آہنگ نہیں ہے۔رانچی کی وکیل اور ریونیو قوانین کی ماہر رشمِی کاتیایان، جنہوں نے زمین سے متعلق متعدد مقدمات میں جھارکھنڈ کی نمائندگی کی ہے، مرکز کے اس نقطۂ نظر کو ’نوآبادیاتی طرزِ فکر‘ قرار دیتی ہیں۔ وہ سوال اٹھاتی ہیں کہ اگر حکومت تجارت میں یکسانیت کی پالیسی اختیار کرنے کی بات کرتی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جھارکھنڈ میں نکالے گئے کوئلے کی قیمت کیرالہ میں فروخت ہونے پر بھی وہی ہوگی۔ ان کے مطابق جس ریاست سے معدنیات نکالی جاتی ہیں، سب سے زیادہ فائدہ بھی اسی ریاست کو ملنا چاہیے۔جہاں اصل ایم ایم ڈی ٹی آر ایکٹ نے مرکز کو کانوں اور معدنی ترقی کو منظم کرنے کا اختیار دیا تھا، وہیں ترمیم کے ذریعے یہ اختیار معدنی زمینوں تک بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ ریاستوں سے ٹیکس عائد کرنے کا اختیار چھیننے سے نہ صرف ان کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ختم ہو جاتا ہے بلکہ کان کنی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو سماجی بہبود پر خرچ کرنے کی ان کی آزادی بھی محدود ہو جاتی ہے۔یہاں ایک بہت بڑا مالیاتی مفاد بھی داؤ پر لگا ہوا ہے۔ جھارکھنڈ منرل بیئرنگ لینڈ سیس ایکٹ کے تحت ریاست نے 2025-26 میں 13,442 کروڑ روپے حاصل کیے، جو ریاست کی غیر ٹیکس آمدنی کا 68 فیصد اور مجموعی آمدنی کا 11 فیصد ہے۔ اندازہ ہے کہ 2026-27 میں اوڈیشہ کی کان کنی سے متعلق ٹیکس آمدنی 53,000 کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے، جو اس کی غیر ٹیکس آمدنی کا تقریباً 75 فیصد ہوگی۔ گزشتہ پانچ برسوں میں اوڈیشہ نے 79 معدنی بلاکس کی نیلامی کی، جس سے اسے تقریباً 87,000 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی۔یہ آمدنی صحت، تعلیم، سماجی تحفظ، زراعت، صفائی اور پینے کے پانی جیسی بنیادی سہولتوں پر خرچ کی جانی تھی۔ اسی طرح ’اوڈیشہ رورل انفراسٹرکچر اینڈ سوشل اکنامک ڈیولپمنٹ ایکٹ، 2004‘ کے تحت دیہی فلاحی پروگراموں کے لیے وسائل پیدا کرنے کی غرض سے معدنی زمینوں کی سالانہ قیمت پر 20 فیصد تک ٹیکس عائد کیا گیا تھا۔مضبوط نگرانی کے نظام کی مدد سے چھتیس گڑھ گزشتہ پانچ مالی برسوں کے دوران معدنیات سے 70,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدنی حاصل کر چکا ہے۔ اسی مدت میں کرناٹک نے معدنی رائلٹی سے تقریباً 36,120 کروڑ روپے، کیرالہ نے 550 کروڑ روپے اور اتراکھنڈ نے 4,600 کروڑ روپے حاصل کیے۔ ان اعداد و شمار میں ریاست کے زیر کنٹرول ریت اور پتھر جیسے معمولی معدنیات سے حاصل ہونے والی آمدنی شامل نہیں ہے۔کسان تنظیموں کے ایک بڑے اتحاد، سنیوکت کسان مورچہ (ایس کے ایم)، نے ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس نے ریاستی حکومتوں سے اپنے وفاقی حقوق کے تحفظ اور کان کنی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو زرعی ترقی، قبائلی بہبود اور پیداواری روزگار کے لیے استعمال کرنے کی اپیل کی ہے۔ ایس کے ایم کا مؤقف ہے کہ یہ قانون کان کنی کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری، بشمول نایاب ارضی معدنیات (ریئر ارتھ) کے استخراج، کو راغب کرنے اور ملک کے معدنی وسائل کے بڑے پیمانے پر استحصال کو آسان بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔کاتیایان کے مطابق جھارکھنڈ میں کوئلہ، لوہے کا خام مال، یورینیم، باکسائٹ، ابرک اور ریئر ارتھ جیسے معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ یہ ذخائر ہندوستان کی قدیم ترین ارضیاتی ساختوں، جن میں گونڈوانا چٹانیں بھی شامل ہیں، میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جھارکھنڈ سب سے زیادہ جی ایس ٹی دینے والی ریاستوں میں شامل ہے، لیکن یہاں سے نکالی جانے والی معدنیات کو پروسیسنگ کے لیے دوسری ریاستوں میں بھیج دیا جاتا ہے اور مقامی لوگوں کو اس کا مناسب فائدہ نہیں مل پاتا۔ترمیم میں کان کنی کمپنیوں کی ان دلیلوں کی بھی جھلک ملتی ہے کہ معدنی زمینیں تیزی سے حاصل کی جائیں، مزید کان کنی بلاکس کی نیلامی ہو اور کامیاب بولی دہندگان کو ماحولیات، جنگلات اور جنگلی حیات سے متعلق منظوری جلد فراہم کی جائے تو حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ تاہم ماحولیاتی ماہرین کے نزدیک اس عمل سے پہلے ہی کمزور حفاظتی انتظامات مزید کمزور ہوں گے۔جنگلات کے حقوق کا قانون، 2006، پنچایتوں کو درج فہرست علاقوں تک توسیع دینے والا قانون (پیسا) اور ماحولیاتی اثرات کے جائزے (ای آئی اے) کے ضوابط کی اکثر خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ گرام سبھا کی لازمی منظوری کئی مرتبہ دباؤ کے تحت حاصل کی جاتی ہے یا محض کاغذات میں فرضی منظوری دکھا دی جاتی ہے۔ قواعد کی یہی خلاف ورزیاں لاکھوں قبائلی لوگوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کا سبب بن رہی ہیں، خاص طور پر اوڈیشہ، جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ میں، جہاں ملک کی تقریباً 70 فیصد کانیں واقع ہیں۔ماحولیاتی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر معدنی وسائل سے مالا مال ریاستوں کے پاس ’ٹیکس کے اختیارات‘ نہ رہے تو وہ قلیل مدتی معاشی فائدے کے لیے زیادہ سے زیادہ معدنی پیداوار کی کوشش کر سکتی ہیں۔ اس کا نتیجہ جنگلات، زرعی زمینوں، آبی ذخائر اور جنگلی حیات کے مسکن کی تیزی سے تباہی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔کانوں اور جنگلات پر آزادانہ تحقیق کرنے والے اوڈیشہ کے سندیپ پٹنائک مرکز اور ریاست، دونوں کو اس صورت حال کے لیے یکساں طور پر ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ادھر مخالفت کی آوازیں بھی بلند ہو رہی ہیں۔ بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) اور انڈیا بلاک میں شامل جماعتوں نے اوڈیشہ میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے ہیں، جبکہ مقامی تنظیموں نے معاشی ناکہ بندی کی دھمکی بھی دی ہے۔