ریاض: سعودی عرب نے متعدد حملوں کے بعد تیل کی اہم اور بڑی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی۔سعودی عرب نے جمعے کو کہا کہ اس نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو بند کر دیا ہے، جس پر ایک روز قبل حملہ کیا گیا تھا۔ سعودی وزارتِ توانائی نے پائپ لائن کی بندش کو ’’احتیاطی اقدام‘‘ قرار دیا۔سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق گزشتہ روز ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا تھا، پائپ لائن کی حفاظت اور نقصان کا جائزہ لینے کے لیے امدادی و تکنیکی ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں، یہ پائپ لائن سعودی شہر بقیق سے خام تیل ینبع بندرگاہ تک پہنچاتی ہے اور روزانہ تقریباً 50 لاکھ بیرل تیل منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔سعودی وزارتِ خارجہ نے حملے کا الزام عراق سے آنے والے متعدد ڈرونز پر عائد کیا۔ سرکاری سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں مملکت نے کہا کہ وہ جوابی کارروائی نہیں کرے گی تاکہ عراقی حکومت کو ’’ضروری اقدامات کرنے کا موقع‘‘ دیا جا سکے۔سعودی عرب پر حملہ کرنے والے اعلیٰ عراقی فوجی کمانڈر کو برطرف کر دیا گیاعراق کے وزیر اعظم علی الزیدی، جو فوج کے کمانڈر اِن چیف بھی ہیں، نے میسان صوبے کی آپریشنز کمانڈ کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا اور اس کے کمانڈر کو برطرف کر دیا۔ حکومت کے ترجمان صباح النعمان نے ہفتے کی صبح جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ حکام نے یہ تعین کیا تھا کہ سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حملے صوبے کے اندر ایک مقام سے کیے گئے تھے۔یاد رہے کہ سعودی عرب اور امریکا نے جولائی میں عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی، ان کا دعویٰ تھا کہ ان ملیشیاؤں نے سعودی تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملے کیے، حملوں کی ذمہ داری حوثیوں نے قبول کی تھی۔ علاقائی عہدیداروں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ حوثیوں نے عراقی ملیشیاؤں کو ان حملوں کی منصوبہ بندی اور انھیں عملی جامہ پہنانے میں مدد فراہم کی تھی۔خیال رہے کہ مذکورہ تیل پائپ لائن 1980 کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی، ایسٹ ویسٹ پائپ لائن نے ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں خلل پیدا ہونے کے بعد سعودی عرب کی تیل برآمد کرنے کی صلاحیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق، جون کے آغاز تک سعودی عرب نے پائپ لائن کے آخری سرے پر واقع بحیرۂ احمر کی بندرگاہ سے تیل کی برآمدات دگنی سے بھی زیادہ کر دی تھیں، جو 50 لاکھ بیرل یومیہ سے تجاوز کر گئی تھیں۔