تہران: ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ یمن میں ہونے والی پیش رفت کا ایران سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے مذاکرات اور امن کے لیے مدد فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی تاہم بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ یمن میں جو کچھ ہوا وہ اس بات کی علامت ہے کہ یمنیوں کا صبر جواب دے رہا ہے، ہم یک طرفہ مؤقف اختیار نہیں کر سکتے اور کئی برس سے جاری ظالمانہ محاصرے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔عراق سے ڈرون حملہ، سعودی عرب نے تیل کی بڑی پائپ لائن بند کر دیانھوں نے کہا امریکا ایران پر الزام عائد کر کے صورت حال کو بگاڑنے اور اسلامی ممالک کے درمیان افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔واضح رہے کہ یمن کے حوثیوں نے باب المندب کے قریب یمنی علاقے ذباب اور اسٹریٹجک جزیرے میون پر قبضہ کر لیا ہے۔ ذباب بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع مرکزی شہر ہے۔حوثیوں کا کہنا ہے اس اقدام کا مقصد عالمی سطح پر انتہائی اہم سمندری تجارتی راستے پر اپنی گرفت مضبوط کرنا ہے۔ حوثیوں نے اہم ساحلی علاقوں پر قبضے کے بعد باب المندب میں پٹرولنگ شروع کر دی ہے۔یمنی سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری فورسز باب المندب میں واقع جزیرے سے نکل گئی ہیں۔ گزشتہ روز باب المندب کی آبنائے میں آبی گزر گاہ کے دہانے پر واقع پیریم جزیرے پر قبضہ کر لیا تھا۔