برکس سربراہی اجلاس کے پیش نظر دہلی میں سیکورٹی سخت، 15 ہزار پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستوں کی 200 کمپنیاں تعینات

Wait 5 sec.

راجدھانی دہلی میں 12 اور 13 ستمبر کو ہونے والے 18ویں برکس سربراہی اجلاس سے قبل راجدھانی میں سیکورٹی کے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔ دہلی پولیس نے مختلف ایجنسیوں کے ساتھ تال میل کرتے ہوئے 15000 پولیس اہلکاروں اور نیم فوجی دستوں کی تقریباً 200 کمپنیوں کو تعینات کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وی وی آئی پی آمد و رفت کے پیش نظر عام لوگوں کے لیے ٹریفک ایڈوائزری بھی جاری کی گئی ہے۔’بھارت منڈپم‘ میں ہوگا 18واں برکس سربراہی اجلاس، شیڈول جاریدہلی پولیس کے پروٹیکٹو سیکورٹی ڈویژن (پی ایس ڈی) کے خصوصی پولیس کمشنر منیش کمار اگروال نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں کہا کہ سربراہان مملکت، حکومت کے سربراہان، غیر ملکی وفود اور وزراء کی سیکورٹی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو کم سے کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑے، یہ بھی ہماری ترجیح ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کثیر سطحی سیکورٹی انتظامات کے تحت ’بھارت منڈپم‘، ہوائی اڈوں، غیر ملکی مہمانوں کے قیام والے ہوٹلوں اور ان تمام مقامات پر وسیع سیکورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں ان کی طے شدہ یا ممکنہ ملاقاتیں ہو سکتی ہیں۔برکس اجلاس سے قبل ہوٹلوں کے کرائے میں زبردست اضافہ، ایک رات کے لیے 3 لاکھ تک کرنی ہوگی ادائیگی، جگہ کی شدید کمی کا سامناخصوصی پولیس کمشنر نے بتایا کہ اجلاس کے پیش نظر کچھ راستوں پر مقررہ وقت کے لیے ٹریفک پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ انہوں نے لوگوں سے دہلی پولیس کی ایڈوائزری پر عمل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ پابندیاں صرف وی وی آئی پی آمد و رفت کے دوران محدود وقت کے لیے ہوں گی، کسی بھی راستے کو مکمل طور پر بند نہیں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہلی پولیس نے سیکورٹی انتظامات کے لیے کئی ایجنسیوں کے ساتھ تال میل کیا ہے۔ وی وی آئی پی روٹ کا سیکورٹی آڈٹ اور سروے کرایا گیا ہے اور کسی بھی طرح کی توڑ پھوڑ یا سیکورٹی خطرے کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔منیش کمار اگروال نے بتایا کہ ’بھارت منڈپم‘ میں داخلے پر کنٹرول، نگرانی، تصدیق اور ہنگامی ردعمل جیسے انتظامات نافذ کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پڑوسی ریاستوں کے ساتھ بھی میٹنگیں کی گئی ہیں اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر ضروری کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے سیکورٹی آپریشن کے لیے تقریباً 15000 دہلی پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے، جبکہ نیم فوجی دستوں کی تقریباً 200 کمپنیاں بھی سیکورٹی انتظامات میں لگائی گئی ہیں۔خصوصی پولیس کمشنر نے اجلاس کے دوران کسی بھی غیر مجاز ڈرون یا دیگر چھوٹے فضائی پلیٹ فارم کے استعمال پر سخت پابندی کی وارننگ بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی غیر مجاز ڈرون کی سرگرمی فضائی حدود میں نظر آتی ہے تو اسے ’روگ ڈرون‘ سمجھا جائے گا اور اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ڈرون اور دیگر فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے ہندوستانی فضائیہ اور نیشنل سیکورٹی گارڈ (این ایس جی) کے ساتھ مل کر مضبوط فضائی سیکورٹی انتظامات نافذ کیے گئے ہیں۔