سہارنپور مسجد انہدام معاملہ پہنچا الہ آباد ہائی کورٹ، مسجد کمیٹی نے دائر کی عرضی

Wait 5 sec.

سہارنپور: اتر پردیش کے سہارنپور میں کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کے انہدام کا معاملہ اب الہ آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ مسجد کمیٹی کی جانب سے اس کارروائی کے خلاف عدالت میں عرضی دائر کی گئی ہے، جس میں ضلع انتظامیہ پر قانونی طریقہ کار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسجد منہدم کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔مسجد کمیٹی کے متولی محمد تنویر کی جانب سے دائر کی گئی عرضی میں ضلع انتظامیہ، اتر پردیش حکومت اور اتر پردیش سنی سینٹرل وقف بورڈ کو فریق بنایا گیا ہے۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسجد کو منہدم کرنے سے قبل قانونی نوٹس اور انہدام کا مناسب حکم جاری کرنے سمیت ضروری قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔مسجد کمیٹی نے اس کارروائی کو عبادت گاہوں سے متعلق قانونی تحفظات کے بھی خلاف قرار دیا ہے۔ عرضی میں عبادت گاہوں سے متعلق قانون، 1991 (پلیسز آف ورشپ ایکٹ، 1991) کی خلاف ورزی کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس عرضی پر آئندہ ہفتے الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت متوقع ہے۔خیال رہے کہ سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کو انتظامیہ نے گزشتہ ہفتے ہفتہ، 5 ستمبر کی علی الصبح منہدم کر دیا تھا۔ مسجد کے انہدام کے بعد سیاسی اور سماجی سطح پر بھی معاملہ بحث کا موضوع بن گیا۔ سہارنپور کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود سمیت مسجد فریق سے وابستہ افراد نے کارروائی کو یکطرفہ اور من مانی قرار دیا تھا۔سہارنپور مسجد کا انہدام قانون و انصاف کا خون: جمعیۃ علماء ہندمسجد کے انہدام کے بعد سہارنپور جانے کی کوشش کرنے والے سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے بعض رہنماؤں کو پولیس نے نظر بند یا حراست میں لے لیا تھا۔ عمران مسعود نے اس معاملے کو سپریم کورٹ تک لے جانے کی بات کہی تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مسجد کی زمین کی ملکیت کا حق اب بھی مسجد کمیٹی کے پاس ہے۔مسجد کی قانونی حیثیت سے متعلق مقدمہ مجسٹریٹ کی عدالت میں زیر سماعت تھا۔ رپورٹ کے مطابق عدالت نے پیش کیے گئے دستاویزات کی بنیاد پر مسجد کی قانونی حیثیت سے متعلق دعویٰ مسترد کرتے ہوئے اسے منہدم کرنے اور 6 کروڑ روپے سے زائد کی تلافی کی رقم ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔مسجد انہدام: سہارنپور جانے سے روکے گئے اجے رائے، احتجاج پر کارکنوں سمیت زیرِ حراستمسجد کمیٹی نے اس فیصلے کے خلاف ضلعی عدالت سے رجوع کیا، تاہم وہاں بھی اس کی درخواست شواہد اور دستاویزات کی بنیاد پر مسترد کر دی گئی۔ اس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے مسجد کو منہدم کر دیا۔ اب مسجد کمیٹی نے انہدام کی کارروائی کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ عدالت میں ہونے والی آئندہ سماعت سے یہ واضح ہوگا کہ مسجد کمیٹی کے قانونی اعتراضات پر عدالت کیا موقف اختیار کرتی ہے۔