ہندوستان 18ویں برکس لیڈرس اجلاس کی میزبانی کی تیاریاں کر رہا ہے۔ 12 اور 13 ستمبر 2026 کو نئی دہلی کے ’بھارت منڈپم‘ میں 18ویں برکس سربراہی اجلاس کا انعقاد ہونے جا رہا ہے، جس کی وجہ سے راجدھانی میں غیر ملکی مہمانوں کی مستقل آمد ہو رہی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ شہر کے تمام لگژری ہوٹلوں میں کمروں کی قلت ہونے لگی ہے، جس کی وجہ سے ہوٹلوں میں ٹھہرنے کا کرایہ بہت بڑھ گیا ہے۔ دہلی کے کچھ بڑے ہوٹلوں کا فی رات کرایہ 2 لاکھ سے 3 لاکھ تک بھی پہنچ چکا ہے۔یہ اجلاس اس لحاظ سے تاریخی ہے کہ اس سال برکس گروپ کے قیام کی 20 ویں سالگرہ ہے۔ 2006 میں 4 ممالک (برکس۔ برازیل، روس، انڈیا، چین) کے ساتھ شروع ہوا، یہ سفر آج ایک طاقتور پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ 2011 میں جنوبی افریقہ اور حالیہ برسوں میں مصر، ایتھوپیا، ایران، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے شامل ہونے سے اب یہ گلوبل ساؤتھ کی اہم آواز بن چکا ہے۔ 2 دہائیوں کے اس جشن اور 18ویں سربراہی اجلاس کا حصہ بننے کے لیے روسی صدر ولادمیر پوتن، چینی صدر شی جن پنگ اور اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری انٹونیو گوٹیرس سمیت دنیا کے کئی اہم لیڈران دہلی پہچ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی کے لگژری ہوٹلوں کی طلب بڑھ گئی ہے، اور کرایہ 2 لاکھ سے تجاوز کر چکا ہے۔برکس اجلاس سے قبل دہلی کے باشندوں کے لیے ضروری مشورہ، ٹریفک ایڈوائزری ضرور پڑھ لیںبکنگ چیک سے پتہ چلا ہے کہ نئی دہلی کے تاج محل اور اوبرائے میں 11-12 ستمبر کے لیے سبھی کمرے بک ہوچکے ہیں، جبکہ تاج پیلیس میں بھی 10سے 12 ستمبر کے لیے سبھی کمروں کی بکنگ ہو گئی ہے۔ لیلا پیلس میں بھی 10 سے 12 ستمبر کے لیے کمرے نہیں مل رہے ہیں۔ آئی ٹی سی موریا میں 10 سے 13 ستمبر کے درمیان کمرے خالی تو ہیں، لیکن فی رات کرایہ 2.3 لاکھ سے شروع ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ تقریب سے 2 دن قبل ہی کئی ممالک کے وفود دہلی پہنچ رہے ہیں، اور اجلاس کے بعد بھی ان لوگوں کے قیام کا ارادہ ہے، جس کی وجہ سے 10 اور 14 ستمبر کے دوران ہوٹلوں میں جگہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ حکومت اور غیر ملکی سفارت خانوں نے سیکورٹی وجوہات کی بنا پر کئی ہوٹلوں کو مکمل طور پر بلاک کر دیا ہے، جس کی وجہ سے عام لوگوں کے لیے بکنگ بند ہے۔