لندن: برطانوی شاہی خاندان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پرنس ہیری اور ان کی اہلیہ میگن مارکل کنگ چارلس سوم کی جانب سے جاری کردہ اس خط پر حیران ہیں جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ وہ شاہی خاندان کے فعال ارکان نہیں ہیں بلکہ عام شہریوں کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق شاہی محل کے اعلیٰ ترین عہدیدار کی جانب سے یہ خط پیر کے روز برطانوی حکومت، عسکری حکام کو ارسال کیا گیا تھا۔خط میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ 2020ء میں ملکہ الزبتھ دوم کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے کے تحت پرنس ہیری اور میگن کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اور وہ شاہی فرائض کی انجام دہی سے دستبردار ہو چکے ہیں۔کنگ چارلس کے خط میں کہا گیا ہے کہ ڈیوک اور ڈچس آف سسیکس (ہیری اور میگن) کی پوزیشن تجارتی اور فلاحی سرگرمیوں میں مصروف عام شہریوں جیسی ہے۔ وہ بدستور اپنے شاہی القابات کا استعمال نہیں کریں گے، اور ان کی تمام تر فلاحی سرگرمیاں مکمل طور پر ان کی ذاتی نوعیت کی ہوں گی۔ہیری اور میگن کے ترجمان اور قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اس خط کے اجرا کے وقت اور اس کے طریقہ کار پر حیران ہیں۔ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ خط میڈیا میں جاری ہونے سے محض ایک گھنٹہ قبل ان کی ٹیم کو دکھایا گیا تھا، جس کی وجہ سے انہیں اس پر ردعمل دینے یا تیاری کا خاطر خواہ موقع نہیں مل سکا۔پرنس ہیری کیخلاف لندن میں مقدمہ دائرواضح رہے کہ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پرنس ہیری اور میگن اپنے بچوں سمیت واپس برطانیہ منتقل ہو چکے ہیں، اور برطانیہ میں ان کی فراہم کی جانے والی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی رواں ہفتے ایک اہم حکومتی کمیٹی کا اجلاس متوقع ہے۔