نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق اپنی تازہ ’سانس‘ رپورٹ میں کہا ہے کہ موسم کے اثرات کو الگ کرنے کے بعد دہلی کی پی ایم10 ہوا کا گزشتہ سال کے مقابلے میں مسلسل بدتر رہنے والا سلسلہ ٹوٹ چکا ہے۔ تاہم ان کے مطابق رواں سال اب تک آلودگی کا مجموعی رجحان اب بھی تشویش ناک ہے، کیونکہ 252 میں سے 167 دن پی ایم10 کی سطح گزشتہ سال کے متعلقہ دن سے زیادہ رہی۔ماکن کی تازہ رپورٹ کے مطابق آج صبح باوانا میں اے کیو آئی 223 ریکارڈ کیا گیا، جو سی پی سی بی کے پیمانے پر ’خراب‘ زمرے میں آتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ باوانا کی اس ریڈنگ کو پی ایم2.5 آلودگی بڑھا رہی ہے۔ سی پی سی بی کے مطابق ’خراب‘ اے کیو آئی کی سطح پر طویل عرصے تک رہنے سے لوگوں کو سانس لینے میں تکلیف ہو سکتی ہے۔ باوانا کے متعلقہ مانیٹر کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں تقریباً 2.7 لاکھ افراد رہتے ہیں۔ماکن نے تاہم واضح کیا کہ کسی مانیٹر کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں موجود ہر شخص عین اسی مانیٹر پر ریکارڈ ہونے والی آلودگی میں سانس لے رہا ہے۔ ان کی رپورٹ میں اس فرق کو واضح طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پوری دہلی میں تقریباً 2.7 لاکھ افراد ایسے مانیٹروں کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں رہتے ہیں جہاں آج اے کیو آئی ’خراب‘ یا اس سے بھی بدتر سطح پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔دہلی کی پی ایم10 آلودگی کے طویل مدتی رجحان پر بات کرتے ہوئے ماکن نے کہا کہ موسم کا اثر نکالنے کے بعد اب پی ایم10 کی سطح گزشتہ سال کے اسی دن سے زیادہ نہیں رہی اور مسلسل جاری رہنے والا یہ سلسلہ ٹوٹ گیا ہے۔ اس سے قبل ان کی ’سانس‘ سیریز میں مسلسل کئی دن تک یہ دکھایا جاتا رہا تھا کہ موسم کے اثرات الگ کرنے کے باوجود دہلی کی پی ایم10 آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ رہی۔رواں سال کے اعداد و شمار کی مجموعی تصویر تاہم مکمل طور پر بہتر نہیں ہوئی ہے۔ ماکن کے مطابق 252 دنوں کے دستیاب ریکارڈ میں 167 دن ایسے رہے جب دہلی کی پی ایم10 آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ اس طرح تقریباً دو تہائی دنوں میں صورتحال گزشتہ سال کے مقابلے میں خراب رہی۔’سانس‘ رپورٹ میں روزانہ کی بنیاد پر دہلی کے فضائی آلودگی کے اعداد و شمار کو ریکارڈ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ ماکن کا کہنا ہے کہ جو اعداد و شمار روزانہ دیکھے اور ریکارڈ کیے جاتے ہیں، انہیں خاموشی سے دبایا نہیں جا سکتا۔رپورٹ میں تفصیلی اعداد و شمار اور طریقۂ کار کے لیے ’ہوا کا حساب‘ ویب سائٹ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ ماکن کی جانب سے دہلی کی ہوا کے معیار پر جاری اس سلسلے میں مختلف مانیٹرنگ اسٹیشنوں کی صورتحال، اے کیو آئی، پی ایم10 اور دیگر آلودگی پھیلانے والے عناصر کے رجحانات کو مسلسل عوام کے سامنے رکھا جا رہا ہے۔