آئی اے ای اے نے ایران کیخلاف قرارداد منظور کرلی

Wait 5 sec.

تہران: بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے ایران، روس اور چین کی مخالفت کے باوجود ایران کیخلاف قرارداد منظور کرلی۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے سامنے ایران کیخلاف پیش قرارداد کے حق میں 23 اور مخالفت میں 3 ووٹ آئے جبکہ 8 اراکین حاضر نہیں ہوئے۔آئی اے ای اے کے سربراہ سے قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایران کیخلاف نئی اور پرانی قراردادیں اور اپنی تازہ رپورٹ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھیجے۔رپورٹس کے مطابق ایران، روس اور چین نے تہران پر پابندیوں کی بحالی سے متعلق اس مسودے کو کالعدم اور باطل قرار دیا۔ایران، روس اور چین نے مشترکہ بیان میں کہا کہ مغربی ممالک کی جانب سے پیش قرارداد کے مسودے میں ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر حملوں کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے اور اس کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون کمزور کرنا ہے۔امریکا نے اردن سے ہیلی کاپٹرز کو منتقل کرنا شروع کردیا، ایرانی میڈیامشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کیخلاف پابندیوں کی بحالی کے مطالبے سے متعلق مغربی قرارداد کا یہ مسودہ قانونی بنیاد کھو چکا ہے، تینوں ممالک نے آئی اے ای اے کے اراکین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس قرارداد کی حمایت سے گریز کریں۔