بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے سابق رکن پارلیمنٹ اشوک سدھارتھ نے مایاوتی کی پیشکش قبول کرتے ہوئے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا، لیکن اس کے بدلے مایاوتی نے جو وعدہ کیا تھا، وہ پورا نہیں کر پائیں۔ یعنی آکاش آنند کو ایک بار پھر بی ایس پی میں عہدہ دینے والی بات سے وہ پیچھے ہٹ گئی ہیں۔ حتیٰ کہ آکاش آنند کو بی ایس پی سے پوری طرح آزاد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔آکاش آنند کے لیے سسر اشوک سدھارتھ نے دی قربانی، مایاوتی کی شرط قبول کر سیاست کو کہا خیربادقابل ذکر ہے کہ آکاش آنند کے سسر اشوک سدھارتھ نے جمعرات کی علی الصبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا، جس پر پر بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے اپنا سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اشوک سدھارتھ کا یہ درست قدم ہے، اگرچہ اسے بہت دیر سے اٹھایا گیا ہے۔ مایاوتی نے بھتیجے آکاش آنند کے بارے میں بھی بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’وہ اب آزاد ہیں۔‘‘ اس کے بعد سوال اٹھنے لگا ہے کہ آخر مایاوتی اپنی بات سے پیچھے کیوں ہٹ گئی؟ دراصل بدھ کو مایاوتی نے اشوک سدھارتھ سے کہا تھا کہ وہ سیاست سے مکمل طور پر ریٹائر ہو جائیں، تبھی آکاش پارٹی کے لیے آزاد ہو کر کام کر سکیں گے اور پارٹی انہیں دوبارہ ذمہ داریاں دینے پر غور کرے گی۔آج مایاوتی نے ’ایکس‘ پر جاری اپنی طویل پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’اشوک سدھارتھ کا سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان درست قدم ہے، اگرچہ یہ بہت دیر سے اٹھایا گیا ہے۔ ویسے لوگ کہتے ہیں کہ اگر یہ فیصلہ بہت پہلے لیا گیا ہوتا تو بی ایس پی، بہوجن سماج اور بہوجن تحریک کے ساتھ ساتھ ان کے داماد آکاش آنند کو مسلسل مشکل حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ اور نہ ہی مجھے پارٹی اور تحریک کے وسیع تر مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے، خاص طور پر اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کے دوران پانچویں بار حکومت بنانے کی زبردست تیاریوں کے بیچ، ان کے بارے میں کئی مرتبہ سخت فیصلے لینے پڑتے۔‘‘ انھوں نے آگے لکھا کہ ’’یہ بات سب کو معلوم ہے کہ بہوجن سماج پارٹی کی امبیڈکر وادی سیاست کی روایت، عزت مآب بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، عظیم قربانی، محنت و جدوجہد وغیرہ سے سرشار رہی ہے اور سب سے بڑھ کر ذاتی و خاندانی مفادات سے دور رہنا ہی اس کی منفرد پہچان رہی ہے۔ جس طرح میں کانشی رام کی طرح اس کے لیے وقف ہوں، اسی طرح پارٹی کے تمام اراکین کو اس سے سبق لیتے ہوئے ذاتی اور خاندانی مفادات اور عہدے و وقار کی خواہش وغیرہ سے بالاتر ہو کر بی ایس پی کو آگے بڑھانا چاہیے۔ تبھی صدیوں سے استحصال زدہ، مظلوم، نظر انداز اور حقیر سمجھے جانے والے ’بہوجن سماج‘ یہاں ’حکمران طبقہ‘ بن سکتے ہیں۔‘‘1. आज श्री अशोक सिद्धार्थ द्वारा राजनीति से संन्यास लेने की घोषणा अति-देर से उठाया गया यह सही क़दम है। 2. वैसे लोगों का यही कहना है कि अगर यह फैसला वे काफी पहले ही ले लेते तो बी.एस.पी., बहुजन समाज व बहुजन मूवमेन्ट तथा उनके दामाद श्री आकाश आनन्द को भी लगातार विपरीत परिस्थितियों…— Mayawati (@Mayawati) September 10, 2026مایاوتی نے آکاش آنند کے خلاف کارروائی کی وجہ بھی بتائی ہے۔ بی ایس پی سپریمو نے کہا کہ اگر اشوک سدھارتھ کو اپنے داماد آکاش آنند کی فکر ہوتی، بی ایس پی اور اس کی امبیڈکر وادی بہوجن تحریک کے وسیع تر مفادات کی پروا ہوتی تو وہ بلا کسی تاخیر کل ہی سیاست سے اپنی سبکدوشی کا اعلان کر دیتے۔ اس سے پارٹی اور تحریک میں آکاش آنند کی سرگرم شمولیت کافی حد تک یقینی ہو جاتی۔ لیکن ایسا نہ ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ اشوک سدھارتھ کے ارادوں میں موجود خامی اور ان کی خواہشات ذرا بھی کم نہیں ہوئی ہیں، بلکہ وہ اب بھی پوری طرح برقرار ہیں۔‘‘ مایاوتی کا کہنا ہے کہ کہ آکاش کا اپنے سسر اشوک سدھارتھ سے اتنا گہرا لگاؤ ہے کہ وہ اپنے کیریئر سے بھی زیادہ انہیں اہمیت دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ انہوں نے بی ایس پی سربراہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ایکس‘ پر موجود متعلقہ پوسٹ کو ری پوسٹ کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا، جبکہ وہ پوسٹ ان کے اپنے مثبت فائدے اور بھلائی کے لیے ہی تھی۔ پہلے وہ ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے پوسٹ ری پوسٹ کر کے اپنی وفاداری ثابت کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اشوک سدھارتھ اور آکاش آنند دونوں کو پارٹی اور تحریک کی کامیابی سے کم اور اپنے ذاتی و خاندانی مفادات سے زیادہ لگاؤ ہے۔مایاوتی کے مطابق بی ایس پی نے ہی ان دونوں (یعنی آکاش اور اشوک) اور کئی دوسرے لوگوں کو زمین سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ اس کے لیے یہ تمام لوگ بی ایس پی اور اس کی قیادت کے تئیں چاہے جتنا بھی شکریہ اور احسان مندی محسوس کریں، وہ کم ہی ہوگا۔ مایاوتی نے واضح لفظوں میں کہا کہ موجودہ حالات میں اگر آکاش آنند پارٹی اور تحریک کے حقیقی مفادات اور اس سے وابستہ اپنے کیریئر کی کم پروا کرتے ہیں اور رشتوں ناطوں وغیرہ سے زیادہ وابستہ رہتے ہیں تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ دوہری سوچ رکھنے والے آکاش آخر بی ایس پی اور تحریک کا فائدہ کیسے کر سکتے ہیں۔ اس لیے پارٹی کے اراکین کو یہ بہتر لگتا ہے کہ جس طرح انہیں 3 ستمبر 2026 کو نیشنل کوآرڈینیٹر جیسے انتہائی اہم عہدے کی تمام ضروری ذمہ داریوں سے آزاد کر دیا گیا تھا، اسی طرح اب انہیں آج سے ہی پارٹی سے مکمل طور پر آزاد کر دیا جانا چاہیے۔ اگر آکاش آنند اب پارٹی میں آزاد رہنا چاہتے ہیں تو وہ آزاد ہیں۔ یعنی اس معاملے میں انہیں پارٹی سے مکمل طور پر آزاد کر دیا گیا ہے۔