بڑی تعداد میں مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (ایم پی ایس سی) کے امیدواروں نے پیر کو پونے میں بھرتی کے عمل میں شفافیت اور مختلف امتحانات میں مبینہ پیپر لیک اور بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مارچ نکالا۔ یہ مارچ اونکاریشور مندر چوک سے شروع ہوا اور پونے ضلع کے کلکٹریٹ دفتر کی جانب بڑھا، جہاں مظاہرین نے ایم پی ایس سی کے کام کاج اور امتحانی طریقۂ کار سے متعلق کئی اہم مطالبات پیش کیے۔مظاہرین نے ایم پی ایس سی کے چیئرمین اور سکریٹری کے استعفیٰ اور ان ان عہدوں پر صاف شبیہ والے افسران کی فوری تقرری کا مطالبہ کیا ہے۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ کرائم برانچ کے ذریعہ ایم پی ایس سی کو سونپی گئی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کو عام کیا جائے۔ انہوں نے تینوں ملزمان کے رابطوں کے ذریعہ منتخب امیدواروں کے کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر) کی جانچ اور ایجنٹوں کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے دیگر امتحانات کے نتائج کو لے کر طلبہ کے ذریعہ اٹھائے گئے شبہات کی آزادنہ تحقیقات اور مشتبہ نتائج و کامیاب امیدواروں کی فرانزک آڈٹ کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ 25 اکتوبر 2026 کو ہونے والا گروپ-سی (کلرک اور ٹائپسٹ کے لیے) کا ابتدائی امتحان شفاف طریقے سے منعقد کیا جائے۔ مظاہرین نے اسٹینوگرافر کے عہدہ کو دوبارہ شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔واضح رہے کہ مظاہرین نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کمیشن ڈرگ انسپکٹر (گروپ بی) امتحان کے بارے میں اٹھائے گئے اعتراضات پر حکومت 8 دنوں کے اندر وضاحت پیش کرے اور مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع کرے۔ دیگر مطالبات کے علاوہ امیدواروں نے 2025 کے اسٹیٹ سروس مین ایگزامنیشن اور ایگریکلچر سروس ایگزامنیشن کے سوالات کی جانچ میں مبینہ کوتاہیوں کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔ این سی پی (ایس پی) رکن اسمبلی روہت پوار اور کانگریس رکن اسمبلی وشوجیت کدم مظاہرہ میں شامل ہوئے اور ان کے مطالبات کی حمایت کی۔ پوار نے کہا کہ حکومت کو مظاہرین کے مطالبات کو پورا کرنا ہوگا۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ کوئی عام سیاسی تحریک نہیں ہے۔ یہ ایم پی ایس سی امتحان کے تمام امیدواروں کی قیادت والی تحریک ہے۔‘‘قابل ذکر ہے کہ ایم پی ایس سی کے چیئرمین وویک بھیمنوار نے گزشتہ ہفتہ کہا تھا کہ ڈرگ انسپکٹر (گروپ بی) امتحان میں سوالنامہ لیک ہونے کا معاملہ ان کے چارج سنبھالنے سے قبل پیش آیا تھا۔ ممبئی پولیس نے اس معاملے میں امتحان میں ساتویں رینک حاصل کرنے والی ایک خاتون امیدوار سمیت 7 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔