نئی دہلی: راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن اور دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر منوج کمار جھا نے ستیہ نکیتن میں نجی پی جی (پیئنگ گیسٹ) رہائش گاہ کے منہدم ہونے کے واقعے پر وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے حادثے کو دہلی اور ملک میں شہری و عوامی بنیادی ڈھانچے کی بگڑتی صورت حال سے جوڑتے ہوئے طلبہ کے لیے سرکاری ہاسٹل کی تعمیر کے لیے ہنگامی مالی پیکیج کا مطالبہ کیا۔منوج جھا نے پیر (7 ستمبر) کو لکھے خط میں کہا کہ 6 ستمبر کو دہلی یونیورسٹی کے قریب ستیہ نکیتن میں طلبہ کی رہائش کے لیے استعمال ہونے والی ایک کثیر منزلہ عمارت کے منہدم ہونے سے کئی نوجوانوں کی جانیں گئیں اور متعدد دیگر زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے ملک بھر کے ان خاندانوں کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے جو اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بڑے شہروں میں بھیجتے ہیں۔انہوں نے خط میں کہا کہ عمارت کے انہدام کے سلسلے میں ساختی ضابطوں کی خلاف ورزی، پانی جمع ہونے اور پرانی عمارت میں تعمیر یا مرمت کا کام کیے جانے جیسی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں حادثے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں، لیکن معاملہ صرف ایک عمارت کی خرابی تک محدود نہیں، بلکہ بڑے ادارہ جاتی بحران کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔منوج جھا نے کہا کہ اگرچہ منہدم عمارت دہلی یونیورسٹی کا سرکاری ہاسٹل نہیں تھا، لیکن اس سے یونیورسٹی اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔ ان کے مطابق یونیورسٹی میں طلبہ کی ایک محدود تعداد کے لیے ہی ہاسٹل کی سہولت دستیاب ہے، جس کے باعث ہزاروں نوجوان کیمپس کے آس پاس غیر منظم اور مہنگی نجی رہائش گاہیں لینے پر مجبور ہیں۔ ایسی جگہوں پر عمارت کی ساختی سلامتی، آگ سے تحفظ، صفائی اور قانونی حیثیت کی جانچ طلبہ کے لیے اکثر ممکن نہیں ہوتی۔ستیہ نکیتن حادثہ: لاپرواہی برتنے پر ایم سی ڈی کے ڈپٹی کمشنر سمیت 5 افسران معطل، پی جی کا مالک راجستھان سے گرفتارانہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے سرکاری ہاسٹل کی تعمیر کے مقصد سے ہنگامی اور مالی پیکیج کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے تحت شمالی اور جنوبی کیمپس کے علاوہ یونیورسٹی سے وابستہ مختلف کالجوں کے لیے وقت مقررہ کے ساتھ جامع طلبہ رہائشی پروگرام شروع کیا جانا چاہیے۔راجیہ سبھا رکن نے مرکز، دہلی یونیورسٹی اور متعلقہ سرکاری اداروں کے پاس دستیاب اراضی کی نشاندہی کرکے وہاں ہاسٹل تعمیر کرنے، تعمیر کی شفاف مدت مقرر کرنے اور پیش رفت کی رپورٹ عوام کے سامنے رکھنے کی بھی تجویز دی۔ انہوں نے خواتین، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات، اقلیتی برادریوں، معذور طلبہ، معاشی طور پر کمزور خاندانوں اور دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبہ کے لیے خصوصی انتظامات کا مطالبہ کیا۔ستیہ نکیتن حادثہ: نائب صدر، وزیر اعظم، کھڑگے سمیت رہنماؤں کا اظہارِ افسوس، اموات کی تعداد 3 ہوئیThe #SatyaNiketan tragedy must also be placed within the wider collapse of civic and public infrastructure in Delhi and across the country. Roads cave in, bridges and buildings collapse, drains fail, public institutions deteriorate, and unauthorised structures proliferate despite… pic.twitter.com/wPZuZ9kKb9— Manoj Kumar Jha (@manojkjhadu) September 7, 2026جھا نے ستیہ نکیتن حادثے کو دہلی اور ملک میں شہری بنیادی ڈھانچے کے وسیع تر زوال سے جوڑتے ہوئے کہا کہ سڑکوں کے دھنسنے، پلوں اور عمارتوں کے گرنے، نالوں کے ناکام ہونے، سرکاری اداروں کی بدحالی اور غیر مجاز تعمیرات کا بار بار سامنے آنا بدعنوانی، ملی بھگت، ناقص نگرانی اور عوامی جواب دہی کے کمزور ہونے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے پھیلاؤ کا جشن مناتے ہوئے ان طلبہ کو ان شہروں میں بے سہارا نہیں چھوڑا جا سکتا جہاں یونیورسٹیاں قائم ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ستیہ نکیتن حادثے کو قومی سطح کی وارننگ سمجھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں اور ایسا انتظام یقینی بنایا جائے کہ کوئی طالب علم ہاسٹل کی عدم دستیابی کے باعث غیر محفوظ عمارت میں رہنے پر مجبور نہ ہو۔