تہران: ایران نے عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے اعلامیے میں عائد الزامات مسترد کر دیے۔وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران عرب لیگ کی وزرائے خارجہ کونسل کے 166 ویں اجلاس کے حتمی اعلامیے میں ایران کے خلاف عائد کیے گئے تمام جھوٹے دعوؤں اور بے بنیاد الزامات کو مسترد اور ان کی مذمت کرتی ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ نے بیان میں کہا صہیونی حکومت مقبوضہ فلسطین، لبنان، شام اور دیگر عرب و اسلامی ممالک میں فوجی جارحیت، نسل کشی اور جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے، ایسے میں عرب لیگ کے بعض رکن ممالک کا ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کرنے پر اصرار کسی بھی طرح قابلِ جواز نہیں ہے۔Iran’s Foreign Ministry on Wednesday rejected what it called “false claims and baseless accusations” in the final statement of an Arab League foreign ministers’ meeting.In a statement carried by state media, the ministry said Iran’s sovereignty over Abu Musa, Greater Tunb and…— Iran International English (@IranIntl_En) September 9, 2026ایران نے کہا عرب لیگ کو فلسطینی عوام کی حمایت اور صہیونی حکومت کے قبضے اور توسیع پسندی کا مقابلہ کرنے پر توجہ دینی چاہیے، جو مغربی ایشیا میں برائی اور عدم تحفظ کا بنیادی ذریعہ ہے۔نیتن یاہو کو حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کا پہلے سے علم تھا، اسرائیلی اخبار کا دعویٰایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہم ابو موسیٰ، جزیرۂ تنبِ بزرگ اور جزیرۂ تنبِ کوچک پر ناقابلِ تردید خودمختاری کا اعادہ کرتے ہیں، اور انھیں ایرانی سرزمین کا لازمی حصہ قرار دیتے ہیں، اور ان جزائر سے متعلق کسی بھی علاقائی دعوے کو قانونی یا تاریخی جواز سے عاری قرار دے کر مسترد کرتے ہیں۔وزارت خارجہ نے کہا خطے میں عدم تحفظ کی وجہ ایران نہیں، امریکا اور صہیونیوں کی جارحیت ہے، خلیجِ فارس میں ساحلی ممالک کے باہمی تعاون سے ہی سلامتی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم یمنی معاملات میں مداخلت کے الزامات مسترد کرتے ہیں، یمن کے اتحاد اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہیں، اور یمنی فریقین کے مابین بات چیت کی حمایت کرتے ہیں۔