واشنگٹن: اسرائیل میں 27 اکتوبر 2026 کو ہونے والے قومی انتخابات سے چند ہفتے قبل وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو ایک نئے اور انتہائی سنگین سیاسی تنازعے کی زد میں آ گئے ہیں۔اسرائیلی اخبار ہاریتز (Haaretz) کی ایک تازہ تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے سے تقریباً 10 روز قبل متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے براہِ راست نیتن یاہو سے رابطہ کر کے انھیں خبردار کیا تھا کہ حماس کے اس وقت کے غزہ سربراہ یحییٰ سنوار ایک بڑی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ محض ایک عمومی انٹیلی جنس الرٹ نہیں تھا بلکہ مبینہ طور پر دونوں رہنماؤں کے درمیان تقریباً 45 منٹ تک فون پر گفتگو ہوئی، جس میں اماراتی صدر نے حماس کی منصوبہ بندی کے بارے میں براہِ راست تشویش ظاہر کی۔ہآریتز کے مطابق محمد بن زاید نے خبردار کیا کہ حماس کی کارروائی بڑے پیمانے پر خوں ریزی کا باعث بن سکتی ہے، خطے کو غیر مستحکم کر سکتی ہے اور اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے درمیان قائم ابراہیمی معاہدوں کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔نتن یاہو کا ردعمل کیا تھا؟ہاریتز نے لکھا کہ محمد بن زاید کو نیتن یاہو کا ردعمل نسبتاً پُرسکون محسوس ہوا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے اماراتی صدر کو یقین دلایا کہ اسرائیل کسی بھی ممکنہ صورت حال کے لیے تیار ہے۔ہاریتز کے مطابق سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ اس مبینہ گفتگو کی اطلاع اسرائیلی سیکیورٹی قیادت کے اہم ارکان کو نہیں دی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین سینئر غیر ملکی حکام کو مبینہ طور پر اس 45 منٹ کی گفتگو کے مندرجات کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔ایرانی حکومت گرانے کے بہت قریب ہیں: نیتن یاہو کا دعویٰلیکن اس پورے معاملے میں ایک انتہائی اہم پہلو یہ ہے کہ نیتن یاہو کے دفتر نے ہاریتز کی رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر نے اسے ’’بالکل جھوٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیتن یاہو نے اس عرصے میں متحدہ عرب امارات کے صدر سے بات نہیں کی اور انھیں محمد بن زاید کی جانب سے ایسی کوئی وارننگ موصول نہیں ہوئی۔متحدہ عرب امارات نے کیا کہا؟اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنانے والی بات یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات نے نہ تو مبینہ فون کال کی براہِ راست تصدیق کی ہے اور نہ ہی اسے واضح طور پر مسترد کیا ہے۔اماراتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حکومت عموماً سربراہانِ مملکت کے درمیان ہونے والی گفتگو کے بارے میں میڈیا رپورٹس یا قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرتی۔کیا 7 اکتوبر سے پہلے صرف امارات نے وارننگ دی تھی؟7 اکتوبر کے حملے کے بعد سے اسرائیل میں یہ سوال مسلسل زیرِ بحث رہا ہے کہ آیا اسرائیلی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو حماس کی کسی بڑی کارروائی کے بارے میں پہلے سے مختلف ذرائع سے اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔تازہ رپورٹس میں اماراتی وارننگ کے علاوہ مصر کی جانب سے دی گئی اطلاعات کا بھی دوبارہ ذکر سامنے آیا ہے۔ مصر کی انٹیلی جنس نے اسرائیل کو حماس کی جانب سے کسی ’’بڑے‘‘ یا غیر معمولی اقدام کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ایک رپورٹ کے مطابق مصر کی جانب سے حماس کے بارے میں یہ پیغام دیا گیا تھا کہ تنظیم ’’غزہ کی زمین کو ہلا دینے‘‘ جیسی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔ تاہم اس وارننگ میں مبینہ طور پر حملے کی صحیح تاریخ، مقام یا طریقہ کار کی تفصیلات موجود نہیں تھیں۔ اسی لیے اسرائیلی سیکیورٹی حکام نے اس پیغام کی مختلف تشریحات کیں۔امریکی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے اس وقت کے چیئرمین مائیکل مک کال نے بھی کہا تھا کہ مصر نے حملے سے تقریباً 3 دن قبل اسرائیل کو ممکنہ بڑے واقعے سے خبردار کیا تھا۔مک کال نے اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ اصل سوال یہ تھا کہ وارننگ اسرائیلی حکومت کے کس اعلیٰ سطحی عہدیدار تک پہنچی تھی۔ اس وقت مصری ذرائع نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل کو غزہ سے کسی ’’بڑے واقعے‘‘ کے امکان سے آگاہ کیا گیا تھا، تاہم اسرائیلی حکام نے اُس وقت ایسی پیشگی وارننگ کی اہمیت کو مسترد کیا تھا۔اکتوبر کو کیا ہوا؟اس مبینہ گفتگو کے تقریباً دس روز بعد، 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں مسلح گروہوں نے اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر اچانک بڑا حملہ کیا۔ حماس کے جنگجو غزہ کی سرحد عبور کر کے متعدد اسرائیلی علاقوں میں داخل ہوئے، راکٹ حملے کیے اور اسرائیلی فوجی تنصیبات اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا۔اس حملے میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے جب کہ 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کیا گیا۔ اس حملے نے اسرائیل اور حماس کے درمیان طویل جنگ کو جنم دیا اور بعد ازاں تنازع لبنان اور ایران سمیت وسیع تر خطے تک پھیل گیا۔اپوزیشن کا نیتن یاہو پر شدید حملہہریتز کی رپورٹ سامنے آتے ہی اسرائیلی اپوزیشن نے نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ چار اہم اپوزیشن رہنماؤں گادی آئزن کوٹ، نفتالی بینیٹ، ایویگڈور لائبرمین اور یائر گولان نے مشترکہ طور پر فوری اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی عوام کو یہ جاننے کا حق ہے:نیتن یاہو کو کیا معلوم تھا؟انھیں کب معلوم تھا؟اگر ایسی وارننگ موصول ہوئی تو سیکیورٹی اداروں کو کیوں نہیں بتایا گیا؟اور اسرائیلی شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟ریاستی کمیشن آف انکوائری کا مطالبہ: اپوزیشن کی بڑی جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر انھیں حکومت بنانے کا موقع ملا تو 7 اکتوبر کی ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے ریاستی کمیشن آف انکوائری قائم کرنا ان کے ابتدائی اقدامات میں شامل ہوگا۔نیتن یاہو کی مقبولیت اور سیکیورٹی امیج: نیتن یاہو نے طویل عرصے تک اپنی سیاسی شناخت اسرائیل کے ’’محافظ‘‘ اور قومی سلامتی کے مضبوط رہنما کے طور پر قائم رکھی لیکن 7 اکتوبر کا حملہ اسی سیکیورٹی امیج کے لیے سب سے بڑا دھچکا ثابت ہوا۔آئندہ انتخابات میں نیتن یاہو کے مخالفین ان کی حکومت کی 7 اکتوبر سے پہلے کی سیکیورٹی ناکامیوں، غزہ جنگ اور اس کے بعد لبنان اور ایران تک پھیلنے والے تنازعات کو انتخابی مہم کا مرکزی موضوع بنا رہے ہیں۔