امریکا نے اردن سے ہیلی کاپٹرز کو منتقل کرنا شروع کردیا، ایرانی میڈیا

Wait 5 sec.

تہران: ایرانی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ امریکا نے اردن میں موافق سلطی ایئربیس سے ہیلی کاپٹرز منتقل کرنا شروع کردیے ہیں۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ منتقل کیے جانیوالے ہیلی کاپٹرز میں وہ ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں جو امریکا کے خلاف منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایران کی جوابی کارروائی میں تباہی کا شکار ہوئے تھے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ایران نے اردن میں امریکی ایئربیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔دوسری جانب امریکا کے سابق سی آئی اے ڈائریکٹر ریٹائرڈ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے اعتراف کیا ہے کہ مشرقی خلیجی ریاستوں میں فعال امریکی فوجی اڈوں کو برقرار رکھنا اب پہلے کی طرح قابل عمل نہیں رہا۔گلوبل گمبٹ کو انٹرویو میں ڈیوڈ پیٹریاس نے واشنگٹن کے طرزِ عمل پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاس ٹیکنالوجی ہے لیکن جنگیں جیتنے کی کوئی حکمت عملی نہیں ہے، امریکی فوج کو تکنیکی برتری حاصل ہے لیکن پینٹاگون کی ناقص حکمتِ عملی نے اس برتری سے مؤثر فائدہ نہیں اٹھانے دیا۔انھوں نے کہا کہ خلیج کی مشرقی ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں کو برقرار رکھنا شاید اب اتنا عملی نہ رہا ہو جتنا پہلے ہوا کرتا تھا، اور اس کی وجہ جنگ کے بدلتے ہوئے طریقہ کار میں مضمر ہے، سستے ڈرون انتہائی مہنگے فوجی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران جنگ 2029 تک جاری رہنے کے خدشے سے آگاہ کر دیا گیاافغانستان میں امریکی افواج کے سابق کمانڈر پیٹریاس نے 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کی بھی مذمت کی تھی۔ انھوں نے کہا تھا ”میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں اس وقت افغانستان چھوڑنا ضروری تھا، اور نہ ہی میرا خیال ہے کہ ہمیں ایسا کرنا چاہیے تھا۔“