ستیہ نکیتن پی جی حادثہ: معاملہ پہنچا سپریم کورٹ، تمام پی جی اور پرائیوٹ ہاسٹلوں کے آڈٹ کا مطالبہ

Wait 5 sec.

دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں پی جی عمارت گرنے کا معاملہ اب سپریم کورٹ میں جمعرات کو اسٹیٹس رپورٹ کے ساتھ پہنچ گیا ہے۔ اس معاملے کے ایمکس کیوری اجیت سنہا نے عدالت میں ایک رپورٹ داخل کر تمام پی جی اور پرائیویٹ ہاسٹلوں کی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں بار بار حادثہ ہونا سنگین تشویش کی بات ہے۔ ساتھ ہی دہلی ہائی کورٹ نے بھی اس حادثے کو لے کر ایم سی ڈی اور دہلی یونیورسٹی کو سخت پھٹکار لگائی ہے۔ستیہ نکیتن حادثہ: ’حکومت جوابدہی سے نہیں بچ سکتی‘، دہلی ہائی کورٹ کا ڈی یو سمیت 6 کو نوٹسیہ پورا معاملہ دہلی یونیوسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے پاس واقع ستیہ نکیتن علاقے سے جڑا ہے، جہاں 5 منزلہ ایک پی جی عمارت گر گئی تھی۔ اس حادثہ میں 7 لوگوں کی جان چلی گئی ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے ایمکس کیوری اجیت سنہا کو مقرر کیا تھا، جنہوں نے اب اپنی اسٹیٹس رپورٹ عدالت میں پیش کر دی ہے۔ رپورٹ میں سب سے اہم سفارش یہ ہے کہ دہلی کے تمام کالجوں اور یونیورسٹیوں کے آس پاس بنے پی جی، پرائیویٹ ہاسٹل اور طلبہ کے رہنے کی جگہوں کا مکمل سیکورٹی آڈٹ کرایا جائے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ستیہ نکیتن علاقے میں ایسے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں، جیسے اپریل 2022 میں بھی ایک عمارت گری تھی۔ بار بار ہونے والے ان حادثوں نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ یہاں ضوابط کو صحیح طریقے سے نافذ کیوں نہیں کیا جا رہا۔واضح رہے کہ مجوزہ جانچ میں عمارت کا نقشہ، تعمیر کا معیار، بیسمنٹ کا استعمال کیسے ہو رہا ہے، ڈھانچہ کتنا مضبوط ہے، آگ سے بچاؤ کے انتظامات اور ہنگامی صورتحال میں باہر نکلنے کے راستے جیسی چیزوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔ دوسری جانب دہلی ہائی کورٹ بھی اس معاملے میں سخت موقف اختیار کر چکا ہے۔ چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا کی بنچ نے 7 افراد کی موت پر افسوس کا اظہار کیا اور ایم سی ڈی اور دہلی یونیورسٹی کو سخت پھٹکار لگائی۔ ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت، دہلی حکومت، پولیس اور ایم سی ڈی سے 10 دن کے اندر جواب طلب کیا ہے۔ آئندہ سماعت 25 ستمبر 2026 کو ہوگی۔