ایران کی جوابی کارروائی کی دھمکی کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سست پڑ گئی

Wait 5 sec.

تہران(8 ستمبر 2026): ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کی دھمکی کے پیش نظر دنیا کی اہم ترین تیل کی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت شدید متاثر ہو کر رہ گئی ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، میری ٹائم انٹیلی جنس کمپنی ‘کپلر’ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ امریکی حملے کے خلاف سخت جوابی کارروائی کے انتباہ کے بعد، ہفتے کے آغاز پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔کشیدہ سکیورٹی صورتحال کے باعث گزشتہ روز اس اہم ترین تجارتی راستے سے صرف سات مال بردار بحری جہاز گزرنے میں کامیاب ہوئے۔خطے میں تناؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب تہران کی جانب سے یہ واضح وارننگ دی گئی کہ خلیجِ فارس میں موجود توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، بالخصوص امریکی تیل اور گیس کے مفادات، اس کے ممکنہ جوابی حملوں کا بنیادی ہدف بن سکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی رسد کے لیے ایک حیاتیاتی گزرگاہ ہے، جہاں آمدورفت سست پڑنے سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔