ہمارے پاس ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق کوئی معلومات نہیں: آئی اے ای اے

Wait 5 sec.

نیویارک: ایران کے جوہری معاملے پر فرانس، جرمنی، برطانیہ اور امریکا کی جانب سے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں رپورٹ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی نے ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کو بتایا ہے کہ ایران نے حالیہ رپورٹنگ کی مدت کے دوران اپنے اعلان کردہ جوہری مواد اور تنصیبات کی صورتِ حال سے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات فراہم نہیں کیں، جبکہ معائنہ کاروں کو بھی جوہری تنصیبات میں موقع پر جا کر تصدیق کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔رپورٹس کے مطابق رافائل گروسی کا کہنا تھا کہ جون 2025ء میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والی تنصیبات میں موجود 60 فیصد تک افزودہ یورینیئم کے ذخیرے سے متعلق آئی اے ای اے کا معلوماتی تسلسل 1 سال سے زائد عرصے سے متاثر ہے۔گروسی کا معلومات اور رسائی کی کمی کو جوہری پھیلاؤ کے حوالے سے تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ صورتِ حال کو فوری طور پر درست کرنے کی ضرورت ہے اور ایران کو آئی اے ای اے کے ساتھ مؤثر تعاون بحال کرنا چاہیے۔رائٹرز کا کہنا ہے کہ چاروں مغربی ممالک آئی اے ای اے کے 35 رکنی بورڈ سے ایک قرارداد کی منظوری کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جس کے تحت ایران کا معاملہ تقریباً دو دہائیوں بعد دوبارہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیجا جا سکے گا۔امریکی دھمکی نظر انداز، روس بھارت کو تیل فروخت کرے گاایران کی جانب سے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام کو پرامن قرار دیا گیا ہے۔