رات کے وقت بینائی کی بہتری : نئی آئی ڈراپس امید کی کرن

Wait 5 sec.

واشنگٹن : رات میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے سامنے والی لائٹس کی وجہ سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ نئی آئی ڈراپس کے استعمال سے یہ مسئلہ ہمیشہ کیلیے حل ہوجائے گا۔رات کے اوقات میں ڈرائیونگ کرنے والوں کے لیے بڑی خبر آگئی، نئی آئی ڈراپس سے نائٹ ویژن میں بہتری آنے کی قوی امید ہے۔ڈرائیونگ کے دوران سامنے سے آنے والی گاڑیوں کی تیز روشنی، چکاچوند، ہالوز اور روشنی کے گرد ستاروں جیسی شعاعوں سے پریشان افراد کے لیے امید کی نئی کرن سامنے آگئی ہے۔امریکی کمپنی اوپس جینیٹکس کی تیار کردہ آئی ڈراپس نے آخری مرحلے کے کلینیکل ٹرائلز میں رات کے وقت بینائی بہتر بنانے کے حوصلہ افزا نتائج دیے ہیں۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دوا کے فیز تھری مطالعات کے نتائج میں بتایا گیا ہے کہ آئی ڈراپس نے کم روشنی یا اندھیرے میں دیکھنے میں دشواری کا سامنا کرنے والے افراد کی بصارت میں نمایاں بہتری پیدا کی۔پہلے کلینیکل ٹرائل میں 145 ایسے افراد کو شامل کیا گیا جنہیں مدھم روشنی یا اندھیرے میں دیکھنے میں مشکلات کے ساتھ چکاچوند، ہالوز اور روشنی سے نکلنے والی ستاروں جیسی شعاعوں کا سامنا تھا۔شرکا کو روزانہ 0.75 فیصد فینٹولامین آئی ڈراپس یا پلیسبو دی گئی، جبکہ علاج کا دورانیہ 8 یا 15 دن رکھا گیا۔8 روز بعد دوا استعمال کرنے والے 13 فیصد افراد کی آنکھوں کے چارٹ پر بینائی میں کم از کم تین لائنز، یعنی 15 حروف، کی بہتری دیکھی گئی، جبکہ پلیسبو گروپ میں یہ شرح صرف 3 فیصد رہی۔ 15ویں روز دوا لینے والے افراد میں یہ شرح بڑھ کر 21 فیصد ہوگئی، جبکہ پلیسبو گروپ میں بہتری کی شرح 3 فیصد ہی رہی۔شرکا سے رات کے وقت بینائی سے متعلق مشکلات کو ایک سے سات کے پیمانے پر بیان کرنے کو بھی کہا گیا، جہاں سات سب سے زیادہ شدت کی علامت تھی۔دوا استعمال کرنے والے افراد میں یہ اسکور آٹھویں روز 4.3 اور 15ویں روز 3.3 تک کم ہوگیا، جبکہ پلیسبو گروپ میں یہ اسکور بالترتیب 4.6 اور 4.3رہا۔تحقیق کے مطابق 15ویں روز فینٹولامین استعمال کرنے والے افراد نے چکاچوند، ہالوز اور ستاروں جیسی شعاعوں سے متعلق مشکلات میں بھی نمایاں کمی کی اطلاع دی۔دوا کیسے کام کرتی ہے؟محققین کے مطابق آئی ڈراپس آنکھ کی آئرس میں موجود ایک پٹھے پر اثر انداز ہوکر آنکھ کی پتلی کو معتدل اور مسلسل طور پر سکیڑتی ہیں، جس کا اثر کم از کم 20 گھنٹے تک برقرار رہ سکتا ہے۔مطالعے میں شامل کئی افراد میں رات کے وقت بینائی کی یہ مشکلات قرنیہ کی ساخت تبدیل کرنے والے علاج کے بعد پیدا ہوئی تھیں، جن میں لاسک سرجری بھی شامل ہے۔ لاسک سرجری عام طور پر قریب یا دور کی نظر کی کمزوری اور بُعد النظر کی اصلاح کے لیے کی جاتی ہے۔اوپس جینیٹکس نے دوسرے مرحلہ سوم ٹرائل کے ابتدائی نتائج بھی حوصلہ افزا قرار دیے ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس مطالعے میں بھی مریضوں نے بتایا کہ سامنے سے آنے والی گاڑیوں کی ہیڈلائٹس کے باعث سڑک دیکھنے میں دشواری اور صبح یا شام کے وقت چکاچوند کے باعث نظر متاثر ہونے میں بہتری آئی۔امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن پہلے ہی ان آئی ڈراپس کو شدید اور دائمی نائٹ ڈرائیونگ بصارت میں کمی یا خرابی کے علاج کے لیے فاسٹ ٹریک ڈیزگنیشن دے چکا ہے۔یہ حیثیت ایسی ادویات کو دی جاتی ہے جو سنگین بیماریوں کے علاج یا کسی اہم طبی ضرورت کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں اور اس سے منظوری کے عمل کو تیز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔تاہم ان حوصلہ افزا نتائج کے باوجود آئی ڈراپس کی حتمی منظوری اور وسیع پیمانے پر استعمال سے پہلے متعلقہ ریگولیٹری مراحل مکمل ہونا ضروری ہیں۔