بنگلہ دیش کی حکومت سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے اثاثے نیلام کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلا دیشی حکومت ٹریبونل کے حکم کے بعد سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے اثاثوں کو ضبط کرنے اور نیلام کرنے کے لیے باقاعدہ قواعد وضع کر رہی ہے جب کہ ساتھ ہی اس کے 43.4 کروڑ ٹکا کے اعلان کردہ اثاثوں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔سابق وزیراعظم کا آبائی گھر اور ٹرسٹ یا خاندان کے افراد کے پاس موجود جائیدادیں قانونی پیچیدگیوں میں گھری ہوئی ہیں۔یہ پیش رفت جولائی میں ہونے والے قتل عام کے مقدمات کے سلسلے میں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل (آئی سی ٹی) کے جاری کردہ احکامات کے بعد ہوئی ہے۔اس اقدام کا بنیادی مقصد ان اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو حالیہ عوامی بغاوتوں کے دوران اپنی جانیں گنوانے یا زخمی ہونے والوں کے خاندانوں کو معاوضہ فراہم کرنے کے لیے استعمال کرنا ہے۔ تاہم، اس عمل میں پیچیدہ قانونی پرتیں شامل ہیں، خاص طور پر ٹرسٹ کے تحت یا خاندان کے افراد کے نام پر رکھی گئی جائیدادوں کے بارے میں۔حسینہ واجد کے اربوں ڈالر کے اثاثے ضبطشیخ حسینہ کے اعلان کردہ اثاثے زیر تفتیشان کے نام پر 4 کروڑ ٹکا۔ ان اثاثوں میں اہم بینک ڈپازٹس، گاڑیاں، سونے کے زیورات، فرنیچر اور اراضی شامل ہیں۔ حکومت اب اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ ان مخصوص اثاثوں کو متاثرین اور شہدا کے خاندانوں کے لیے معاوضے کے پول کے لیے فنڈز کیسے فراہم کیے جا سکتے ہیں۔بھارت شیخ حسینہ کو حوالے کرے ورنہ ۔۔۔۔۔؟ بنگلہ دیش کا انڈیا کو واضح پیغام