ہلدوانی ’شدھی کرن‘ معاملہ: نینی تال میں ایس سی ایس ٹی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج

Wait 5 sec.

ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی ریلی کے بعد ہوئے ’شدھی کرن‘ معاملے میں نینی تال پولیس نے پہلی ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ایف آئی آر وکیل اور کانگریس کارکن انجو کی تحریری شکایت پر ہلدوانی تھانہ میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی ہے۔ پولیس نے یہ معاملہ بی این ایس کی دفعہ 196، 299 اور ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کی دفعہ 3(1) (آر) کے درج کیا ہے۔ نینی تال ایس ایس پی منجوناتھ ٹی سی نے معاملے کی تفصیلی تحقیقات کی ذمہ داری ایس پی کرائم ڈاکٹر جگدیش چندر کو سونپ دی ہے۔Uttarakhand | Another FIR has been registered by Nainital Police in connection with the ‘purification' of Haldwani’s Ramlila Maidan. The FIR was registered at Haldwani Kotwali on the complaint of Congress worker Anju.A case has been registered under Sections 196 and 299 of the… pic.twitter.com/4IjjAsknzg— ANI (@ANI) September 8, 2026نینی تال کے ایس ایس پی منجوناتھ ٹی سی نے بتایا کہ پولیس کو اس معاملے میں مقدمہ درج کرنے کے لیے ریاست بھر سے 80 شکایتیں ملی تھیں، جن میں 19 نینی تال ضلع سے تھیں۔ شکایات کی قانونی جانچ کے بعد سب سے پہلے شکایت دینے والی انجو کی تحریر پر ہلدوانی تھانہ میں مقدمہ درج کیا گیا۔ انجو ہی وہ پہلی شخص تھیں، جنہوں نے اس معاملے میں شکایت درج کرائی تھی۔ واضح رہے کہ اس معاملے میں بنگلورو میں بھی ایک زیرو ایف آئی آر درج کی گئی ہے، جسے تحقیقات کے لیے ہلدوانی منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ہلدوانی ’شدھی کرن‘ معاملہ: بنگلورو پولیس نے درج کی ایف آئی آر، اتراکھنڈ بی جے پی صدر کا نام بھی شاملدوسری جانب پیر (7 ستمبر) کو اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منوج کمار تیواری اور جسٹس سدھارتھ ساہ کی ڈویژن بنچ نے اس معاملے کی آزادنہ تحقیقات کا مطالبہ کرنے والی مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) کو نمٹا دیا۔ عدالت نے کہا کہ معاملے میں قانونی کارروائی پہلے سے جاری ہے، اس لیے اس وقت مزید عدالتی ہدایات کی ضرورت نہیں ہے۔ریاستی حکومت کے ایڈووکیٹ جنرل ایس این بابولکر نے عدالت کو بتایا کہ 30 اگست 2026 کو ہلدوانی تھانے میں ایف آئی آر نمبر 2026/0297 درج کی جا چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بنگلورو میں درج ایک زیرو ایف آئی آر کو تحقیقات کے لیے ہلدوانی منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے عدالت کو یقین دلایا کہ پولیس بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعات کے تحت غیر جانب دارانہ تحقیقات کرے گی اور تمام سی سی ٹی وی اور الیکٹرانک شواہد محفوظ رکھے جائیں گے۔