طلبہ احتجاج: 14 سالہ لڑکی کے خلاف ایف آئی آر پر سپریم کورٹ سخت، یوپی-دہلی حکومت کو نوٹس

Wait 5 sec.

سپریم کورٹ نے طلبہ احتجاج میں شامل ہونے والی 14 سالہ لڑکی کو پریشان کرنے اور اس کے گھر میں توڑ پھوڑ کے الزامات کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ سپریم کورٹ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے کہا کہ وہ لڑکی کی ایف آئی آر پر کارروائی اور اس کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ عدالت نے دہلی اور یوپی حکومت سے اس کارروائی پر رپورٹ طلب کی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ 14 سالہ لڑکی کو ڈرانے دھمکانے کے الزامات کو ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ کسی کو بھی مجرمانہ کارروائی کرنے کے لیے متاثرہ یا اس کے اہل خانہ کو ڈرانے دھمکانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔سوتنتر بھاردواج پر ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے بعد پوکسوایکٹ بھی لگادراصل یہ معاملہ تب سامنے آیا جب وکیل نے سی جے آئی سوریہ کانت کی صدارت والی بنچ کو بتایا کہ لڑکی کے خلاف ایک جوابی ایف آئی آر درج کی گئی تھی، جبکہ اس پر حملہ کرنے اور اسے ڈرانے دھمکانے میں شامل لوگ اب بھی کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ عدالت میں یہ بات سوتنتر بھاردواج معاملے میں کہی گئی۔ وکیل نے بتایا کہ لڑکی کی شکایت پر اب پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن نے کارروائی شروع کر دی ہے۔ عدالت نے یوپی-دہلی حکومت سے ایف آئی آر، لڑکی کو دی گئی حفاظت اور مبینہ طور پر شامل لوگوں کے خلاف کی گئی کارروائی پر رپورٹ طلب کی ہے۔سالیسٹر جنرل مہتا نے کہا کہ انہیں بچی کی سوشل میڈیا پوسٹ سے اس معاملے کی جانکاری ملی تھی۔ وکیل نے بتایا کہ ایسی ویڈیوز موجود ہیں، جن میں 4 پولیس اہلکار مظاہرین پر حملہ کرنے والے شرپسندوں کے ساتھ نظر آ رہے ہیں اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ جسٹس جوئے مالیہ باغچی نے سالیسٹر جنرل سے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس ایف آئی آر پر فوری کارروائی کی جائے اور اتر پردیش پولیس کی جانب سے متاثرہ اور اس کے اہل خانہ کو پولیس تحفظ فراہم کیا جائے۔ تحقیقات پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس کے ذریعہ کی جانی چاہیے۔دوسری جانب سپریم کورٹ نے طلبہ مظاہرہ کے دوران دہلی میٹرو کے 17 اسٹیشنوں کو بند کرنے سے متعلق آئینی سوالات کو اٹھانے والی عرضی پر بھی نوٹس جاری کیا۔ جسٹس جوئے مالیہ باغچی نے کہا کہ عام طور پر عدالتیں لا اینڈ آرڈر کے معاملے میں ایگزیکٹو کے فیصلے کو تسلیم کرتی ہیں، لیکن جب اس اختیار کا استعمال ضرورت سے زیادہ یا غیر متوازن طریقے سے کیا جاتا ہے تو عدالتی جانچ کی ضرورت پڑتی ہے۔ جسٹس باغچی نے مزید کہا کہ ایسے معاملات میں ایس او پی اصل میں ایک دھوکہ ہے۔ جب ایسے سوال اٹھتے ہیں تو عدالتیں ایگزیکٹو اتھارٹی کے فیصلے کو مانتی رہی ہیں۔ عدالتیں تبھی دخل دیتی ہیں جب یہ کارروائی ضرورت سے زیادہ یا غیر متوازن ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اس اختیار کا استعمال کس طرح سے کیا جا رہا ہے۔