’بھارت رتن‘ ایوارڈ یافتہ ملک کے سب سے معروف سائنسداں پروفیسر سی این آر راؤ اب اپنی ہی شناخت ثابت کرنے کے لیے سماعت میں پیش ہونے کو مجبور ہیں۔ ایس آئی آر عمل کے دوران ان کے نام میں کچھ غلطی پائی گئی ہے، جس کی اصلاح کے لیے انہیں نوٹس بھیجا گیا ہے۔ پرانے ریکارڈ میں ان کا نام پروفیسر سی این آر راؤ (Prof. C.N.R. Rao) ہے۔ لیکن موجودہ ریکارڈ میں انگریزی نام میں ایک اضافی ’ایف‘ جڑ گیا ہے۔ اس کے بعد ان کا نام ’Proff. CNR Rao‘ ہو گیا ہے۔ اس وجہ سے اب انہیں یہ نوٹس دیا گیا ہے کہ وہ آ کر ثابت کریں کہ وہ واقعی وہی پروفیسر سی این آر راؤ ہیں جن کی پیدائش بنگلورو کے بسونگڈی میں ہوئی، جنہوں ںے سائنس کے میدان میں بے شمار خدمات انجام دیں اور جنہیں 2014 میں ’بھارت رتن‘ ایوارڈ ملا۔’عام لوگوں کا کیا ہوگا؟‘ ایس آئی آر میں پریشانی کے بعد 3 ممالک میں سفیر رہے نودیپ سوری کا تلخ تبصرہ، کانگریس بھی حملہ آورپروفیسر راؤ کو ملّیشورم میں سماعت کے لیے بلایا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان کے جاننے والوں کو اس نوٹس کی خبر نہیں تھی۔ جب ان کے قریبی لوگوں سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ پروفیسر راؤ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ وہ فون بہت کم استعمال کرتے ہیں اور خود کبھی ای میل چیک نہیں کرتے۔ واضح رہے کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے دوران بھرے گئے فارم میں غلطیوں کی وجہ سے 43 لاکھ سے زائد ووٹرس کو نوٹس بھیجا گیا ہے۔ یہ لسٹ اب سب کے لیے دستایب ہے۔ ’سیلف-مِسمیچ‘ کا مطلب ہے ایک طرح کی گڑبڑی۔ جب کوئی ووٹر جو 2002 کی ووٹر لسٹ میں تھا، ایس آئی آر فارم بھرتے وقت 2002 والی معلومات درج کرتا ہے، لیکن وہ معلومات آج کی لسٹ سے میل نہیں کھاتیں۔پروفیسر سی این آر راؤ 92 سال کے ہیں اور ملک کے اعلیٰ ترین اعزاز ’بھارت رتن‘ ایوارڈ یافتہ سائنسداں ہیں۔ یہ اعزاز پانے والے وہ سی وی رمن اور سابق صدر اے پی جے عبدالکلام کے بعد تیسرے سائنسداں ہیں۔ علم کیمیا (کیمسٹری) کے شعبہ میں سی این آر راؤ نے شاندار کام کیا۔ دنیا ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتی ہے۔ سی این آر راؤ ’سالڈ اسٹیٹ‘ اور ’مٹیریل کیمسٹری‘ پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ سی این آر راؤ کے علاوہ کرناٹک کے معروف تعلیمی کارکن اور پدم شری ایوارڈ یافتہ کو بھی نوٹس بھیجا گیا۔ دوسری جانب حال ہی میں پنجاب ایس آئی آر کے دوران سابق ہندوستانی سفیر نودیپ سوری کو شناخت ثابت کرنے کا نوٹس بھیجا گیا تھا۔ وہ 3 ممالک کے سفیر رہ چکے ہیں۔ ان سے شہریت ثابت کرنے والی دستاویزات مانگی گئی تھی۔ حالانکہ اس معاملے پر انہوں نے ناراضگی ظاہر کی تھی۔ اس کے علاوہ نوبل انعام یافتہ اور عالمی شہرت یافتہ ماہر اقتصادیات کو بھی ایس آئی آر کے دوران شناخت ثابت کرنے کا نوٹس بھیجا گیا تھا۔ ہندوستانی ٹیم کے تیز گیندباز محمد شامی کو بھی نوٹس بھیجا گیا تھا۔