’الزامات اچانک ختم کس طرح ہو گئے؟‘ دہشت گردی معاملہ میں گرفتار امریکی شہری کو راحت ملنے پر کانگریس کا سوال

Wait 5 sec.

قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) نے منگل کے روز امریکی شہری میتھیو وین ڈائک کے خلاف دہلی کے راؤز ایونیو کورٹ میں چارج شیٹ داخل کی۔ حالانکہ اس میں میتھیو وین ڈائک پر انسداد دہشت گردی قانون یو اے پی اے نہیں لگایا گیا ہے، جبکہ گرفتاری کے وقت اس پر دہشت گردی جیسے کئی سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ کانگریس نے اس معاملہ میں سوال اٹھاتے ہوئے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔If reports are true that terror charges against U.S. citizen Matthew Van Dyke have been dropped after high level U.S.-India meetings, the Modi Government owes India an explanation.If an individual was arrested on allegations involving illegal entry, links with armed groups and…— Abhishek Singhvi (@DrAMSinghvi) September 9, 2026کانگریس کے راجیہ سبھا رکن ابھشیک منو سنگھوی نے 9 ستمبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’اگر یہ خبریں سچ ہیں کہ امریکہ کے شہری میتھیو وین ڈائک پر لگے دہشت گردی کے الزامات کو امریکہ و ہندوستان کے درمیان ہوئی اعلیٰ سطحی میٹنگوں کے بعد ہٹا لیا گیا ہے، تو مودی حکومت کو چاہیے کہ وہ ہندوستان کو اس معاملے میں وضاحت پیش کرے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ اگر کسی شخص کو غیر قانونی طریقے سے گھسنے، مسلح گروپوں سے رشتہ رکھنے اور ڈرون جنگ کی ٹریننگ لینے کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا، تو وہ سنگین الزامات اچانک کس طرح ختم ہو گئے؟قابل ذکر ہے کہ وین ڈائک کو رواں سال مارچ میں کولکاتا ایئرپورٹ سے حراست میں لیا گیا تھا، جبکہ یوکرینی شہریوں کو دہلی اور لکھنؤ ایئرپورٹ سے پکڑا گیا تھا۔ گرفتاری کے تقریباً 6 ماہ بعد یہ چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔ وین ڈائک اور 6 یوکرینی شہریوں پر میانمار کے باغی گروپوں کو فوجی تربیت و ڈرون تربیت دینے کی سازش کا الزام ہے۔ این آئی اے نے پہلے ان لوگوں کے خلاف یو اے پی اے کی دفعہ 18 کے تحت معاملہ درج کیا تھا۔ راؤز ایونیو کورٹ نے اس پورے معاملے کی سماعت کے لیے یکم اکتوبر کی تاریخ طے کی ہے۔واضح رہے کہ میوتھیو ایرن وین ڈائک ایک امریکی شہری ہے۔ اس کو امریکہ کے ڈیپ اسٹیٹ کا حصہ مانا جاتا ہے۔ ’میتھیو سنز آف لبرٹی انٹرنیشنل‘ نام کے ادارہ کا بانی ہے۔ یہ ایک غیر منافع بخش سیکورٹی فرم ہے، جو تاناشاہ حکومتوں کے خلاف لڑنے والے گروپس کو تربیت دیتی ہے۔ وین ڈائک پہلے لیبیا اور شام جیسے خطرناک جنگی علاقوں میں بھی کام کر چکا ہے۔ وین ڈائک پر الزام ہے کہ وہ ہندوستان ویزا پر آیا تھا، لیکن بغیر کسی اجازت کے اپنے کچھ دیگر یوکرینی ساتھیوں کے ساتھ میزورم جیسے حساس علاقوں میں داخل ہو گیا۔ بعد ازاں ناجائز طریقے سے میانمار کی سرحد کو پار کر گیا۔ جانچ میں پتہ چلا کہ اس گروپ نے میانمار کے نسلی باغی تنظیموں اور ہندوستان کے کچھ باغی گروپس سے جڑے نیٹورک سے رابطہ کیا۔ این آئی اے کا الزام ہے کہ یہ لوگ یوروپ سے ہندوستان کے راستے کثیر تعداد میں ڈرون لائے تھے اور میانمار میں ان باغی گروپس کو فوجی ٹریننگ اور ڈرون چلانے کی ٹریننگ دے رہے تھے۔