مہاراشٹر میں خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کا عمل جاری ہے۔ یہاں کچھ اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد پتہ چلا ہے کہ ریاست میں مسلم اکثریتی حلقوں میں بڑی تعداد میں ووٹ حذف کیے گئے ہیں۔ یہاں کی 38 اسمبلی سیٹوں کے اعداد و شمار کے تجزیہ سے معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 30 فیصد ووٹرس کے نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کیے گئے ہیں۔ ان سیٹوں پر مسلم آبادی مجموعی آبادی کا پانچواں حصہ یا اس سے زیادہ ہے۔ وہ سیٹ جہاں 51 فیصد مسلمان ہیں، وہاں سے 49 فیصد ووٹ حذف کیے گئے ہیں۔ ریاست کی 38 اسمبلی سیٹوں پر کل ووٹروں میں سے 37.51 لاکھ ووٹر، یعنی 29.77 فیصد ووٹرس کو ’انکلیکٹیبل‘ کے طور پر مارک کیا گیا ہے، جبکہ پورے مہاراشٹر میں یہ اعداد و شمار 21.14 فیصد ہے۔انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ممبئی اور ممبئی میٹروپولیٹن ریجن کے کئی گھنی آبادی والے علاقوں میں یہ شرح سب سے زیادہ رہی ہے۔ بھیونڈی ایسٹ میں 49.10 فیصد ووٹرس کے نام ڈرافٹ لسٹ میں آگے نہیں بڑھائے گئے ہیں۔ اس کے بعد بھیونڈی ویسٹ میں 44.72 فیصد، ممبرا-کالوا میں 42.91 فیصد اور مان خورد شیواجی نگر میں 42.31 فیصد ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کیے گئے ہیں۔ راجدھانی ممبئی میں چاندی ولی سیٹ جہاں مسلم آبادی کل آبادی کا 27.6 فیصد ہے، وہاں ’انکلیکٹیبل‘ شرح 41.44 فیصد درج کی گئی ہے۔ اسی طرح یہ شرح سائن-کولی واڑا اور پونے کینٹ میں بھی 40 فیصد سے زیادہ تھی۔حالانکہ ان اعداد و شمار سے صاف نہیں ہو پایا ہے کہ کس سیٹ سے کتنے مسلم ووٹرس کو لسٹ سے باہر کیا گیا ہے۔ ایس آئی آر ڈاٹا کو مذہب کی بنیاد پر تیار نہیں کیا گیا ہے، اور یہ اعداد و شمار ان اسمبلی سیٹوں سے نکالے گئے، جہاں مسلم آبادی 20 فیصد سے زیادہ ہے۔ اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جن ووٹرس کے نام فہرست میں آگے نہیں بڑھائے گئے، ان کی تعداد کا تناسب ضروری نہیں ہے کہ کسی سیٹ پر مسلم آبادی کی آبادی کے حساب سے زیادہ ہو۔ مالیگاؤں سنٹرل سیٹ جس میں ان 38 سیٹوں میں سب سے زیادہ مسلم آبادی 78.4 فیصد ہے۔ وہاں ’انکلیکٹیبل‘ شرح 23.46 فیصد ہے۔ اس کے مقابلے مان خورد شیواجی نگر میں جہاں مسلم آبادی 53 فیصد ہے، یہ شرح 42.31 فیصد تھی۔ بھیونڈی ایسٹ سیٹ جہاں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 51 فیصد ہے، سب سے زیادہ شرح 49.10 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ جبکہ کئی سیٹوں پر یہ شرح کافی کم ہے۔ ملکا پور میں جہاں کل آبادی مسلم آبادی کا 20.4 فیصد ہے، وہاں 7.68 فیصد ووٹروں کو ’انکلیکٹیبل‘ کے طور پر مارک کیا گیا ہے۔ اسی طرح راویر میں 9.91 فیصد، لاتور شہر میں 11.91 فیصد اور بالا پور میں 11.71 فیصد ووٹ ڈرافٹ لسٹ سے حذف کیے گئے ہیں۔’انکلیکٹیبل‘ زمرے کا مطلب یہ ہے کہ ایک بڑا حصہ ایسا بھی ہے، جو یا تو کہیں اور چلا گیا ہے، یا پتہ نہیں چل پا رہا ہے، یا جو غیر حاضر تھے۔ 38 انتخابی حلقوں میں مستقل طور سے کہیں اور منتقل ہوگئے ’انکلیکٹیبل‘ ووٹرس کی تعداد 42.05 فیصد تھی۔ جن کا پتہ نہیں چل سکا ہے وہ غیر حاضر تھے، وہ 35.59 فیصد تھے۔ ان کے علاوہ متوفی ووٹرس 12.76 فیصد اور ڈپلیکیٹ رجسٹریشن والے ووٹرز کی شرح 8.33 فیصد تھی۔ 38 مسلم اکثریتی حلقوں کے لیے 29.77 فیصد کے مشترکہ اخراج کی شرح کو بنچ مارک مانتے ہوئے ریاست کی 53 اسمبلی سیٹوں میں اس سطح یا اس سے زیادہ اخراج کی شرح درج کی گئی ہے۔ ان میں قلابہ (46.92 فیصد)، کھڑکواسلا (46.53 فیصد)، نالاسوپارہ (46.35 فیصد)، کوتھروڈ (46.17 فیصد) اور کلیان رورل (46.05 فیصد) شامل ہیں۔جبکہ ریزرو اسمبلی سیٹوں سے موازنہ کرنے پر ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ درج فہرست ذات (ایس سی) کے لیے 29 ریزروڈ نشستوں کے لیے مشترکہ اخراج کی شرح 19.61 فیصد تھی، جو مسلم اکثریتی سیٹوں کی 29.77 فیصد شرح اور پوری ریاست کے 21.14 فیصد کے اعداد وشمار کے مقابلے کم ہے۔ ایس سی کے لیے ریزرو صرف 6 سیٹوں پر شرح 29.77 فیصد سے زیادہ ہے، جس میں امبرناتھ 44.17 فیصد اور پمپری 41.22 فیصد سب سے زیادہ ہے۔ جبکہ دیگر 23 سیٹوں پر یہ شرح کم رہی ہے۔ اسی طرح درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے لیے ریزرو 25 سیٹوں پر کل ملا کر اور بھی کم ہے۔ یعنی 13.21 فیصد کٹوتی کی شرح رہی ہے۔ ان میں صرف بوئیسر سیٹ پر یہ شرح 29.77 فیصد کے بنچ مارک کو تجاوز کرکے 34.35 فیصد تک پہچ سکی ہے۔