68500 ٹیچر بھرتی کے امیدواروں نے ہفتے کے روز اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کی رہائش کے قریب احتجاج کیا۔ انہوں نے ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن کے حکم کو نافذ کرنے اور ’او بی سی‘ امیدواروں کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے نعرے لگائے اور نائب وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی کوشش کی۔خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے بات کرتے ہوئے ایک امیدوار اجے کمار نے کہا کہ ہماری مانگ ہے کہ ہمیں وزیر اعلیٰ سے بات کرنے کی اجازت دی جائے اور ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن کی جانب سے جاری حکم کو نافذ کیا جائے۔ ہمیں تقرری نامہ بھی دیا جانا چاہیے، یہ ہمارے مطالبات ہیں۔ ہم لوگ 8 برسوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سے مسلسل یہی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ریزرویشن میں ہوئی بے ضابطگی کے سلسلے میں کمیشن کی جانب سے جاری حکم کو تسلیم کیا جائے اور ہمیں ہمارا حق دیا جائے۔اناؤ سے آئے امیدوار شیوش سنگھ نے کہا کہ یہ 68500 ٹیچر بھرتی کا معاملہ ہے۔ 5 فیصد کی چھوٹ چاروں زمروں کو ملنی چاہیے تھی۔ او بی سی، معذور، سابق فوجی اور مجاہدین آزادی کو غیر محفوظ زمرے میں رکھا گیا ہے۔ بنیادی تعلیم وزیر کی جانب سے بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ سے بات کی جائے گی، انہی کی سطح سے فیصلہ ہو سکے گا۔ ہمارا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ ہماری بات سنیں اور ہم لوگوں کو انصاف دلائیں۔ایک خاتون امیدوار نے کہا کہ ہم لوگ وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں کرائی گئی یقین دہانی کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ ایک اور خاتون امیدوار نے کہا کہ ہم لوگوں کی ایک ہی مانگ ہے کہ وزیر اعلیٰ سے بات کرائی جائے اور ہماری مشکلات کو حل کیا جائے۔