برکس 2026 کے ’نئی دہلی اعلامیہ‘ میں ’بانڈونگ روح‘ کا ذکر، جئے رام رمیش نے یاد دلائیں نہرو کی تاریخی یادداشتیں

Wait 5 sec.

کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے نئی دہلی میں منعقد ’برکس سربراہی اجلاس 2026‘ میں منظور کیے گئے ’نئی دہلی اعلامیہ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے 1955 کی تاریخی ایشیائی-افریقی کانفرنس اور اس میں ہندوستان کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی شرکت کو یاد کیا ہے۔ انھوں نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ برکس سربراہی اجلاس میں ابھی منظور کیے گئے نئی دہلی اعلامیہ کا پیراگراف 16 براہ راست 1955 میں انڈونیشیا کے شہر بانڈونگ میں منعقد ہونے والی تاریخی ایشیائی-افریقی کانفرنس کے اصولوں کو یاد کرتا ہے۔Para 16 of the New Delhi Declaration just adopted at the BRICS Summit says the following:16. We recall 1955 Asian-African Conference in Bandung, Indonesia that proclaimed general principles, including equality, independence, non-intervention, and mutual benefit. We stress that… pic.twitter.com/iYaDPScZe5— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) September 12, 2026جئے رام رمیش کے مطابق نئی دہلی اعلامیہ کے پیراگراف 16 میں 1955 کی بانڈونگ کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے ان عمومی اصولوں کو یاد کیا گیا ہے، جن میں مساوات، آزادی، عدم مداخلت اور باہمی فائدہ شامل ہیں۔ اس اعلامیہ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ’بانڈونگ روح‘ ایک زیادہ منصفانہ، زیادہ شمولیت پر مبنی اور زیادہ نمائندہ کثیرالجہتی نظام کی تشکیل کی کوششوں میں ایک اہم حوالہ اور رہنما اصول کے طور پر کام کرتی ہے۔کانگریس لیڈر نے اسی تناظر میں 22 اپریل 1955 کی دوپہر بانڈونگ کی اس تاریخی کانفرنس کے دوران جواہر لعل نہرو کی تحریر کردہ چند یادداشتوں اور نوٹس کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ نہرو نے اس تاریخی اجلاس کے دوران کچھ مختصر نوٹس اور جملے تحریر کیے تھے، جو اس دور کے سیاسی ماحول اور ہندوستان کی بین الاقوامی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔برکس 2026: مشترکہ ’نئی دہلی اعلامیہ‘ میں کئی اہم ایشوز شامل، پہلگام حملہ کی مذمت سے لے کر ٹیرف پالیسی تک کا ذکرجئے رام رمیش نے بتایا کہ ونیت ٹھاکر نے حال ہی میں نہرو کی ’بانڈونگ کانفرنس‘ سے متعلق ان یادداشتوں، ڈوڈلز اور نوٹس کے علاوہ دیگر تحریروں پر ایک عمدہ مضمون لکھا ہے۔ اس مضمون میں بانڈونگ کانفرنس کے دوران نہرو کے قلم سے لکھی گئی مختلف یادداشتوں اور ان کے پس منظر پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ جئے رام رمیش نے اپنی پوسٹ کے آخر میں بالی ووڈ کے ایک پرانے اور مقبول گیت کی سطریں بھی لکھیں، جو اس طرح ہیں:تو جہاں جہاں چلے گامیرا سایہ ساتھ ہوگابہرحال، جئے رام رمیش کے ذریعہ کی گئی سوشل میڈیا پوسٹ نئی دہلی برکس اعلامیہ میں ’بانڈونگ کانفرنس‘ اور اس کے اصولوں کی بازگشت کو ہندوستان کی تاریخی سفارتی روایت سے جوڑنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جئے رام رمیش نے اس کے ذریعے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ 1955 کی بانڈونگ کانفرنس میں مساوات، آزادی، عدم مداخلت اور باہمی مفاد کے جو اصول پیش کیے گئے تھے، وہ آج بھی عالمی سیاست اور ایک زیادہ منصفانہ، جامع اور نمائندہ بین الاقوامی نظام کی تشکیل کے مباحث میں اپنی معنویت رکھتے ہیں۔