اتراکھنڈ کانگریس نے ریاست کی بی جے پی حکومت پر سرکاری زمینوں کی مبینہ بندربانٹ، بدعنوانی اور من پسند افراد کو فائدہ پہنچانے کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے ریاست کے مفادات کو نقصان پہنچایا اور اتراکھنڈ کے ’جل، جنگل اور زمین‘ پر عوام کے حق کو کمزور کرنے کا کام کیا ہے۔ کانگریس لیڈران نے ایک پریس کانفرنس میں مختلف معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے اور سرکاری زمینوں کی نیلامی، زمینوں کی قیمت کے تعین اور زمین کے استعمال سے متعلق فیصلوں کی جانچ کا مطالبہ کیا۔उत्तराखंड में भ्रष्टाचार के नए-नए तरीके ईजाद करने के लिए अगर कभी अवार्ड दिया जाएगा तो उसके लिए सबसे योग्य व्यक्ति पुष्कर सिंह धामी होंगे।अतीत में भी BJP सरकार ने निजी हाथों से जमीन खींचकर बाहरी माफियाओं को देने का काम किया है। लेकिन अब इनकी नजर सरकारी जमीनों पर है और इसके लिए… pic.twitter.com/g0Yue8KurT— Congress (@INCIndia) September 12, 2026اتراکھنڈ کانگریس کے صدر گنیش گودیال نے کہا کہ اگر اتراکھنڈ میں بدعنوانی کے نئے نئے طریقے ایجاد کرنے کے لیے کبھی کوئی ایوارڈ دیا گیا تو اس کے سب سے زیادہ مستحق وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی ہوں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ماضی میں بھی بی جے پی حکومت نے پرائیویٹ ہاتھوں سے زمینیں لے کر باہر کے مافیا عناصر کو دینے کا کام کیا، لیکن اب حکومت کی نظر سرکاری زمینوں پر ہے اور اسی مقصد کے لیے ’یو آئی آئی ڈی بی‘ کے نام سے ایک محکمہ قائم کیا گیا ہے۔گنیش گودیال نے ’سہستر دھارا‘ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہاں آئی ٹی پارک کے لیے زمین مختص کی گئی تھی تاکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق کاروبار کو فروغ دیا جا سکے، لیکن الزام ہے کہ اس زمین کو انتہائی کم قیمت پر ایک بلڈر کے حوالے کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی کئی دوسری مثالیں بھی موجود ہیں۔ ان کے مطابق بی جے پی حکومت نے یو آئی آئی ڈی بی کے تحت 7000 بیگھے سے زیادہ سرکاری زمینوں کو نیلام کرنے کے لیے جو طریقے اختیار کیے اور جن شرائط کو اس میں شامل کیا، ان سے حکومت کی نیت پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے ایسا کر کے ریاست کے مفادات کے ساتھ دھوکہ کیا اور اتراکھنڈ کو نقصان پہنچایا۔कांग्रेस पार्टी ये लगातार कह रही है कि जल-जंगल-जमीन पर आम जनता का हक होना चाहिए, लेकिन आज BJP सरकार ने उत्तराखंड की उम्मीदों को ध्वस्त कर दिया है। हम ये जानना चाहते हैं:⦿ UIIDB के तहत उत्तराखंड की जमीनें मुफ्त में क्यों दी गईं⦿ जिस विभाग के अंतर्गत ये जमीनें आती हैं, उस… pic.twitter.com/xQ3M8gW8s9— Congress (@INCIndia) September 12, 2026پریس کانفرنس میں اتراکھنڈ قانون ساز اسمبلی میں کانگریس پارٹی کے لیڈر یشپال آریہ نے کہا کہ کانگریس مسلسل یہ موقف اختیار کرتی رہی ہے کہ ’جل، جنگل اور زمین‘ پر عام عوام کا حق ہونا چاہیے، لیکن آج بی جے پی حکومت نے اتراکھنڈ کے لوگوں کی امیدوں کو پانی میں ملا دیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ یو آئی آئی ڈی بی کے تحت اتراکھنڈ کی زمینیں مفت میں کیوں دی گئیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جن محکموں کے دائرۂ اختیار میں یہ زمینیں آتی ہیں، ان سے اجازت لینا ضروری تھا، لیکن حکومت نے اس شرط کو ہی ختم کر دیا۔یشپال آریہ نے زمینوں کی قیمت کے تعین کے معاملے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان زمینوں کی مالیت کے جائزے پر سنگین شبہات موجود ہیں۔ انہوں نے حکومت سے جواب طلب کیا کہ یہ زمینیں کیوں دی گئیں اور اس سے اتراکھنڈ کی عوام کو آخر کیا فائدہ حاصل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری زمینوں سے متعلق فیصلوں میں ریاستی مفاد اور عوامی فائدے کو ترجیح دی جانی چاہیے، لیکن حکومت کی پالیسیوں سے اس کے برعکس تاثر پیدا ہو رہا ہے۔उत्तराखंड बनते समय सबसे बड़ी समस्या ये थी कि उत्तराखंड की जमीन कैसे बचाई जाए।इस मामले में हमारे पहले निर्वाचित मुख्यमंत्री नारायण दत्त तिवारी जी ने कड़े प्रावधान किए। उन्होंने 500 वर्ग मीटर से ज्यादा जमीन, उस व्यक्ति के खरीदने पर रोक लगा दी, जो कि यहां के रिकॉर्ड में किसान नहीं… pic.twitter.com/GGzsLv6wVn— Congress (@INCIndia) September 12, 2026کانگریس رہنما منوج راوت نے اتراکھنڈ کے قیام کے وقت زمینوں کے تحفظ کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سب سے بڑا سوال یہی تھا کہ اتراکھنڈ کی زمین کو کس طرح محفوظ رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے پہلے منتخب وزیر اعلیٰ نارائن دت تیواری نے اس سلسلے میں سخت دفعات نافذ کی تھیں۔ ان کے مطابق، انہوں نے 500 مربع میٹر سے زیادہ زمین ایسے شخص کے خریدنے پر پابندی عائد کر دی تھی، جس کا نام مقامی ریکارڈ میں کسان کے طور پر درج نہیں تھا۔ منوج راوت نے کہا کہ بعد میں جب کھنڈوری وزیر اعلیٰ بنے تو انہوں نے اس حد کو کم کر کے 250 مربع میٹر کر دیا تھا۔ تاہم، 2017 میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد اتراکھنڈ کی زمینوں کی فروخت کا ایک بڑا معاملہ تریویندر سنگھ کی حکومت کے دوران سامنے آیا، جب اراضی قانون کی دفعہ 154 میں 154(2) شامل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ترمیم کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ 12.5 ایکڑ زمین رکھنے کی حد کو ختم کر دیا گیا اور اس کے بعد ملک اور دنیا کا کوئی بھی شخص اتراکھنڈ کے جال جیبی، پتھورا گڑھ اور منسیاری جیسے سرحدی علاقوں میں بھی کتنی ہی زمین خرید سکتا تھا۔ منوج راوت کے مطابق تریویندر سنگھ نے اس ایکٹ میں 143(اے) بھی شامل کیا تھا، جس کے تحت اگر زمین جس مقصد کے لیے لی گئی تھی، اسے اس مقصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے تو وہ زمین دفعہ 143(اے) کے تحت اتراکھنڈ حکومت کے پاس واپس چلی جائے گی۔کانگریس لیڈر نے ہماچل پردیش کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کے سیاسی رہنما ہماچل ٹیننسی ایکٹ میں دفعہ 118 لائے، جس کے باعث کسی بھی غیر کسان کے زمین خریدنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس کے برعکس، ان کا الزام تھا کہ اتراکھنڈ میں 2018 سے 2022 کے دوران بی جے پی حکومت کے مختلف وزرائے اعلیٰ نے اپنی مرضی اور اپنی پسند کے افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے یو پی زیڈ ایل آر ایکٹ کی دفعات 143 اور 154 میں 10 تبدیلیاں کیں۔