بھارت میں ایک صدی پرانی مسجد کی شہادت، یوگی حکومت کو نوٹس جاری

Wait 5 sec.

(12 ستمبر 2026): بھارتی ریاست اتر پردیش میں تقریباً ایک صدی پرانی مسجد کو شہید کرنے کے کیس میں عدالت نے یوگی حکومت سے جواب طلب کر لیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سہارنپور میں واقع مسجد کی شہادت کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے الہ آباد ہائیکورٹ نے یوگی حکومت سے جواب طلب کیا اور ہدایات جاری کیں۔الہ آباد ہائیکورٹ نے ریاستی حکومت سے حلف نامے کی شکل میں جواب طلب کیا ہے اور اسے جواب داخل کرنے کیلیے تین ہفتے کی مہلت دی۔ عدالت نے سہارنپور سٹی مجسٹریٹ کی جانب سے مسجد انتظامیہ پر عائد کردہ 6 کروڑ 41 لاکھ روپے کے جرمانے کی وصولی بھی روکنے کا حکم دیا۔یہ بھی پڑھیں: بھارت: مسجد میں گھس کر پیش امام کا بے دردی سے قتلدرخواست پر مزید سماعت 12 اکتوبر کو ہوگی۔مسجد کمیٹی کے متولی تنویر احمد نے درخواست دائر کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سٹی مجسٹریٹ اور ڈسٹرکٹ جج کی طرف سے جاری کردہ احکامات ان کے متعلقہ دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہیں۔16 جولائی کو جاری کردہ ایک حکم میں سہارنپور کے سٹی مجسٹریٹ نے مسجد کو خالی کرنے کی ہدایت دی تھی اور 6 کروڑ 41 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ سٹی مجسٹریٹ کے حکم کے خلاف ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں اپیل دائر کی گئی تھی جسے 2 ستمبر کو مسترد کر دیا گیا۔بعدازاں، 5 ستمبر کی صبح حکام نے کلکٹریٹ کے احاطے میں 315 مربع میٹر زمین پر بنی سو سال سے زائد پرانی مسجد کو گرانے کیلیے بلڈوزر کا استعمال کیا۔ انہدام کے بعد ملبے کو ضلع ہیڈ کوارٹر سے تقریباً 10 کلومیٹر دور مختلف مقامات پر پھینک دیا گیا۔جب کچھ مسلمان ملبے کا معائنہ کرنے کیلیے پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ کچھ اینٹوں پر سال 1911 اور دیگر پر 1909 درج تھا۔