کولکاتا: کلکتہ ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے جمعہ کو مغربی بنگال فائر سروسز محکمہ کے اس نوٹس پر عبوری روک لگا دی، جس میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کے کولکاتا کے کیمک اسٹریٹ واقع دفتر کو فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ریاستی فائر سروسز محکمہ نے 4 ستمبر کو دفتر خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا تھا۔ محکمہ کے مطابق کیمک اسٹریٹ کی عمارت کی ساتویں اور آٹھویں منزل پر واقع دفتر فائر سیفٹی کے ضوابط پر پورا نہیں اترتا تھا۔ نوٹس میں فائر سیفٹی سسٹم میں چھ طرح کی خامیوں کا حوالہ دیتے ہوئے 48 گھنٹے کے اندر تحریری جواب طلب کیا گیا تھا۔اس کے بعد ترنمول کانگریس نے دفتر خالی کرنے کے نوٹس کو چیلنج کرتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ معاملے کی سماعت جسٹس کرشنا راؤ کی سنگل بنچ کے سامنے ہوئی۔ سماعت کے اختتام پر عدالت نے دفتر خالی کرنے کے نوٹس پر 16 ستمبر تک عبوری روک لگا دی۔ عدالت اسی دن معاملے میں اپنا فیصلہ سنائے گی۔سماعت کے دوران ترنمول کانگریس کی جانب سے پیش ہوئے مغربی بنگال کے سابق ایڈووکیٹ جنرل کشور دتہ نے مؤقف اختیار کیا کہ دفتر خالی کرنے کا نوٹس سیاسی انتقام سے متاثر تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فائر سیفٹی ضوابط کی خلاف ورزی کے معاملے میں صرف عمارت کی ساتویں اور آٹھویں منزل کو ہی غیر محفوظ قرار دیا گیا، جبکہ انہی منزلوں پر ابھیشیک بنرجی کا دفتر واقع ہے۔ریاستی حکومت کی جانب سے موجودہ ایڈووکیٹ جنرل سروجیت ناتھ مترا نے اس کے جواب میں کہا کہ عمارت کی ساتویں اور آٹھویں منزل پر واقع پارٹی دفتر میں فائر الارم کام نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ عمارت کی دیگر منزلوں کے مقابلے ان دونوں منزلوں پر فائر اسپرنکلرز کی تعداد بہت کم تھی۔عمارت کی مالک رما دیوی گوئنکا کی جانب سے پیش ہوئے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ساتویں اور آٹھویں منزل پر موجود افراد نے عمارت کی مالک سے پیشگی اجازت لیے بغیر وہاں ایک کیفے ٹیریا قائم کر لیا تھا۔کیمک اسٹریٹ کا یہ دفتر گزشتہ ماہ بھی تنازع کا مرکز بنا تھا۔ 27 اگست کو کولکاتا میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کے اہلکار پولیس کے ساتھ ابھیشیک بنرجی کے دفتر پہنچے تھے تاکہ وہاں نصب مبینہ غیر قانونی بل بورڈ کو ہٹایا جا سکے۔ اس دوران ابھیشیک بنرجی، ڈیرک او برائن اور دیگر پارٹی رہنماؤں کی قیادت میں ترنمول کارکنوں نے کے ایم سی اہلکاروں اور پولیس کی کارروائی کی شدید مخالفت کی تھی۔ اس دوران پولیس اہلکاروں اور ترنمول کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی۔شیکسپیئر سرنی پولیس اسٹیشن میں درج تین ایف آئی آر میں کولکاتا پولیس نے ترنمول کارکنوں پر ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کے ساتھ مارپیٹ اور ایک خاتون پولیس افسر کی عزت مجروح کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔تین ایف آئی آر میں سے دو میں ابھیشیک بنرجی، ڈیرک او برائن، ہمایوں کبیر اور بیسوانر چٹرجی سمیت ترنمول کے دیگر رہنماؤں کے نام بھی شامل ہیں۔ پولیس اس معاملے میں اب تک 14 افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔ کولکاتا پولیس ابھیشیک بنرجی، ڈیرک او برائن اور ابھیشیک بنرجی کے پرسنل اسسٹنٹ سمیت سُمیت رائے سے بھی پوچھ گچھ کر چکی ہے۔