’ہندوستان عالمی حل کا مرکز بن رہا ہے‘، برکس بزنس فورم میں وزیر اعظم مودی

Wait 5 sec.

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو نئی دہلی کے ہندوستان منڈپم میں منعقدہ برکس بزنس فورم کے لیڈرز سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برکس آج عالمی معیشت، اختراع اور تجارت کا ایک اہم مرکز بن کر ابھرا ہے اور ہندوستان تیزی سے عالمی مسائل کے حل کا مرکز بن رہا ہے۔وزیر اعظم نے برکس بزنس فورم میں شریک تمام نمائندوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سال برکس گروپ کے قیام کے 20 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2006 میں جب اس گروپ کا آغاز ہوا تھا تو اس میں صرف چار ممالک شامل تھے، لیکن آج رکن اور شراکت دار ممالک کو ملا کر برکس کا خاندان 21 ممالک تک پھیل چکا ہے۔مودی نے کہا کہ برکس ممالک دنیا کی تقریباً 50 فیصد آبادی، 40 فیصد عالمی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) اور 25 فیصد سے زیادہ عالمی تجارت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں جہاں عالمی جی ڈی پی تقریباً ڈھائی گنا بڑھی ہے، وہیں برکس ممالک کی مشترکہ جی ڈی پی تقریباً ساڑھے چار گنا بڑھی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برکس کی اقتصادی طاقت دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رفتار سے بڑھی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ برکس ممالک عالمی اختراع اور مسائل کے حل کے بڑے مراکز کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ زمینی سطح کی پہلوں سے لے کر جدید ترین ٹیکنالوجی تک، ان ممالک میں اختراع کے نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برکس کا بڑھتا دائرہ، اس کی رفتار اور اس کے تئیں امید واضح طور پر نظر آتی ہے۔ مودی نے ہندوستان کی میزبانی میں ہونے والے موجودہ فورم کو اب تک کا سب سے بڑا برکس بزنس فورم قرار دیا۔ہندوستان کی برکس صدارت کی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ لچک پیدا کرنے کے تحت ہندوستان نے توانائی سے لے کر ٹیکنالوجی تک مختلف شعبوں میں سپلائی چین کو زیادہ متنوع اور قابل اعتماد بنانے پر کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورت حال کے باوجود یہی مضبوطی ہندوستان کو ترقی اور استحکام کا بھروسا فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان سڑک، ریلوے، بندرگاہ اور ہوائی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جہاز سازی، سیمی کنڈکٹر، کوانٹم ٹیکنالوجی، اہم معدنیات اور بایوٹیکنالوجی جیسے اسٹریٹجک شعبوں میں نئی صلاحیتیں بھی تیار کی جا رہی ہیں۔برکس اجلاس: ہندوستان سفارتی بارودی سرنگ کے دہانے پر... آشیش رےڈیجیٹل معیشت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کے یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) نے مالی شمولیت اور بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل لین دین کو نئی رفتار دی ہے۔ ان کے مطابق دنیا میں ہونے والی ریئل ٹائم ڈیجیٹل ادائیگیوں میں 50 فیصد ادائیگیاں آج یو پی آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے ہو رہی ہیں۔مودی نے کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا کے کئی حصوں میں تجارتی رکاوٹیں بڑھ رہی ہیں، ہندوستان اقتصادی پل بنانے کا کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 سے اب تک ہندوستان نے تقریباً 40 ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کیے ہیں۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان 18ویں برکس سمٹ میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچےانہوں نے کہا کہ ہندوستان کا نقطۂ نظر تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنے اور کاروبار کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے پر مرکوز ہے۔ اسی مقصد کے تحت ہندوستان کی برکس صدارت کے دوران زراعت، صحت، ہنرمندی کی ترقی اور اسمارٹ گرڈ جیسے شعبوں میں نئے تعاون کے نیٹ ورک قائم کیے گئے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ اسٹارٹ اپس اور مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ایز) کو بازار اور مالی وسائل سے جوڑنے کے لیے برکس انکیوبیٹر نیٹ ورک، برکس ایم ایس ایم ای پورٹل اور برکس اسٹارٹ اپ انوویشن فنڈ جیسی پہلیں شروع کی گئی ہیں۔ انہوں نے بزنس فورم میں موجود صنعت کاروں سے اپیل کی کہ وہ ان پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے برکس ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور باصلاحیت افراد کے تبادلے کو مزید مضبوط بنائیں۔