بنگلورو جیل میں پرجول ریونّا کے بیرک سے فون برآمد، ملزم وارڈر سمیت 9 افراد گرفتار

Wait 5 sec.

بنگلورو: بنگلورو پولیس نے پرپنا اگراہارا مرکزی جیل کے اندر ممنوعہ موبائل فون اور سم کارڈ کی غیر قانونی سپلائی اور استعمال سے متعلق تین معاملات کا پردہ فاش کرتے ہوئے دو جیل وارڈروں سمیت 9 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کی تحقیقات میں ایک نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے، جس کے ذریعے ایک وارڈر نے موبائل فون جیل کے اندر پہنچایا، جبکہ ایک زیر سماعت قیدی کے ذریعے سم کارڈ اندر لایا گیا۔پولیس کے مطابق 11 اگست کو جیل میں اچانک تلاشی کے دوران زیر سماعت قیدی پرتاپ رائے اور سزا یافتہ سابق جے ڈی (ایس) رکن پارلیمنٹ پرجول ریونّا کے بیارک سے موبائل فون، سم کارڈ، چارجر اور ایک نوٹ بک برآمد ہوئی تھی۔ تحقیقات میں الزام سامنے آیا کہ موبائل فون ایک وارڈر کے ذریعے جیل کے اندر پہنچایا گیا، جبکہ سم کارڈ ایک زیر سماعت قیدی کے ذریعے اندر لایا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ رائے اور پرجول ریونّا نے اس موبائل فون اور سم کارڈ کا استعمال کیا۔پولیس نے بتایا کہ تحقیقات کے مختلف مراحل میں موبائل فون اور سم کارڈ خریدنے اور انہیں جیل تک پہنچانے میں مدد کرنے والے پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ تکنیکی شواہد اور ملزمان سے پوچھ گچھ کی بنیاد پر تفتیش کاروں نے ممنوعہ آلات کو جیل کے اندر پہنچانے کے راستے کا سراغ لگایا۔پرتاپ رائے اور پرجول ریونّا کو 8 ستمبر کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں دونوں کو پوچھ گچھ کے لیے تین دن کی پولیس حراست میں بھیجا گیا۔ 10 ستمبر کو عدالت کے حکم کے بعد دونوں کو دوبارہ جیل بھیج دیا گیا۔پہلے معاملے کی تحقیقات اس وقت شروع ہوئی تھیں جب 13 جنوری کو جیل انتظامیہ نے چار موبائل فون، دو سم کارڈ اور ایک چارجر برآمد کیا۔ پولیس نے دونوں ایئرٹیل سم کارڈ سے منسلک موبائل نمبروں کا سراغ لگایا اور سی ای آئی آر پورٹل کے ذریعے تکنیکی معلومات حاصل کرکے ان آلات کی شناخت کی، جن میں یہ سم کارڈ استعمال کیے گئے تھے۔تحقیقات کے دوران پولیس جیل کے وارڈر سری نواس نائک تک پہنچی، جسے 28 اگست کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران نائک نے اعتراف کیا کہ اس نے دو موبائل فون فرضی نام ’راہل‘ سے خریدے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نائک نے یہ بھی بتایا کہ اس نے اسی طریقے سے تقریباً 12 موبائل فون خریدے، انہیں اپنے پاس رکھا اور غیر قانونی طور پر جیل کے اندر پہنچایا۔پولیس اب اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد اور جیل کے اندر ممنوعہ موبائل فون کی سپلائی میں ان کے کردار کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔