دہلی کی 82 فیصد آبادی درمیانی یا اس سے بدتر فضائی آلودگی کی زد میں: اجے ماکن

Wait 5 sec.

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق اپنی تازہ ’سانس‘ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ شہر کی بڑی آبادی ایسی ہوا میں سانس لے رہی ہے جو مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے مطابق ’درمیانہ‘ یا اس سے بدتر زمرے میں آتی ہے۔ ان کے مطابق ایسے مانیٹروں کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں رہنے والی آبادی 1.72 کروڑ، یعنی دہلی کی تقریباً 82.2 فیصد آبادی کے برابر ہے۔ماکن نے بتایا کہ آج صبح دہلی میں سب سے خراب صورت حال وزیرپور کی رہی، جہاں اے کیو آئی 190 ریکارڈ کیا گیا۔ یہ ریڈنگ ’درمیانہ‘ زمرے میں آتی ہے اور ماکن کے مطابق اسے پی ایم10 آلودگی بڑھا رہی ہے۔ وزیرپور کے متعلقہ مانیٹر کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں تقریباً 14.1 لاکھ افراد رہتے ہیں۔رپورٹ میں سی پی سی بی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’درمیانہ‘ اے کیو آئی بھی صحت کے لیے مکمل طور پر بے ضرر نہیں ہے۔ اس سطح پر پھیپھڑوں کے امراض، خصوصاً دمے میں مبتلا افراد کے ساتھ دل کے مریضوں، بچوں اور بزرگوں کو سانس لینے میں تکلیف ہو سکتی ہے۔ماکن نے ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کی کہ کسی مانیٹر کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں رہنے والا ہر شخص عین اسی مانیٹر پر ریکارڈ ہونے والی ہوا میں سانس لے رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ فرق رپورٹ میں واضح طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق 7 ستمبر صبح 10 بجے سے 8 ستمبر صبح 10 بجے تک کی مدت میں دہلی کی فضائی کیفیت کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ میں صحت پر ممکنہ اثرات کے لیے سی پی سی بی کے نیشنل ایئر کوالٹی انڈیکس کی متعلقہ جدول کا حوالہ دیا گیا ہے۔ماکن کی رپورٹ میں دہلی کی فضائی آلودگی کے طویل مدتی رجحان کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق موسم کے اثرات کو الگ کرنے کے بعد دہلی کی پی ایم10 ہوا اب گزشتہ سال کے اسی دن کے مقابلے میں بدتر نہیں ہے اور اس کا مسلسل چلنے والا سلسلہ ٹوٹ چکا ہے۔ تاہم رواں سال اب تک دستیاب 251 دنوں میں 167 دن ایسے رہے جب پی ایم10 کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ تھی۔SAANS · Day 120 · THE WORST STATIONMost days this year, Delhi's air carried more dirt than a year ago, and the weather did not do it.Wazirpur read 190 this morning, the worst air in Delhi, and PM10 set that figure. On CPCB's own scale that is Moderate: “May cause breathing… pic.twitter.com/crRiOYzr8n— Ajay Maken (@ajaymaken) September 8, 2026اس سے قبل ماکن کی ’سانس‘ سیریز میں موسم کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرکے دہلی کی آلودگی کا جائزہ لیا جاتا رہا ہے۔ اس طریقے کو ’ڈی ویدرنگ‘ کہا جاتا ہے، جس میں ہوا، بارش اور درجہ حرارت جیسے موسمی عوامل کے اثر کو الگ کرکے آلودگی کے اصل رجحان کو دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ماکن نے فضائی آلودگی کے روزانہ اعداد و شمار کو مسلسل عوام کے سامنے رکھنے پر زور دیا ہے۔ ان کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو اعداد و شمار روزانہ ریکارڈ کیے جاتے ہیں، انہیں خاموشی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مکمل رپورٹ اور طریقۂ کار ’ہوا کا حساب‘ ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔