برکس 2026: مشترکہ ’نئی دہلی اعلامیہ‘ میں کئی اہم ایشوز شامل، پہلگام حملہ کی مذمت سے لے کر ٹیرف پالیسی تک کا ذکر

Wait 5 sec.

نئی دہلی میں منعقد 18واں برکس سربراہی اجلاس میں آج کئی تاریخی اور بڑے فیصلے لیے گئے۔ آج ’بھارت منڈپم‘ میں اعلیٰ سطحی اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے ’نئی دہلی اعلامیہ‘ میں عالمی سیاست اور تجارت سے متعلق کئی اہم مسائل اٹھائے گئے۔ اس اعلامیہ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ تشدد، سرحد پار دہشت گردی اور جنگ کو کسی بھی صورت درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ہی موجودہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی یکطرفہ تجارتی پالیسیوں، ٹیرف اور اقتصادی پابندیوں پر گہرا اعتراض ظاہر کیا گیا ہے۔ برکس گروپ نے یہ بھی واضح کر دیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، آئی ایم ایف اور عالمی بینک جیسے پرانے عالمی اداروں کی ساخت اب تبدیل ہونی چاہیے، تاکہ ’گلوبل ساؤتھ‘ یعنی ترقی پذیر ممالک کو ان کا جائز حق اور مناسب نمائندگی مل سکے۔برکس اجلاس: ’لچک، جدت، تعاون اور پائیداری ہماری ترجیحات‘، پی ایم مودی نے افتتاحی کلمات میں کئی اہم ایشوز کا کیا ذکرپہلگام دہشت گردانہ حملے پر برکس نے کیا پیغام دیا؟مشترکہ اعلامیہ میں 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر میں ہوئے بزدلانہ دہشت گردانہ حملہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی، جس میں 26 بے گناہ افراد ہلاک ہوئے تھے اور کئی دیگر شدید زخمی ہوئے تھے۔ برکس ممالک نے پوری دنیا سے اپیل کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے اور اس معاملے میں اختیار کیے جانے والے ہر قسم کے دوہرے معیار کو فوری طور پر مسترد کیا جائے۔ رکن ممالک نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گردی کا کسی بھی مذہب، قومیت یا طبقے سے تعلق نہیں ہے اور سرحد پار دہشت گردوں کی آمد و رفت، دہشت گردی کو ملنے والی مالی معاونت اور ان کے محفوظ ٹھکانوں کو ہر حال میں ختم کیا جانا چاہیے۔ مشترکہ اعلامیہ میں اقوام متحدہ کے ڈھانچے کے تحت بین الاقوامی دہشت گردی سے متعلق جامع کنونشن (سی سی آئی ٹی) کو بغیر کسی تاخیر کے حتمی شکل دینے اور نافذ کرنے کی پرزور اپیل کی گئی۔غزہ کے انسانی بحران اور فلسطین پر کیا رہا موقف؟برکس ممالک نے جنگ میں بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے اور شہری آبادیوں اور اسپتالوں پر حملوں کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی شدید مخالفت کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک خود مختار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی، جس کی راجدھانی مشرقی یروشلم ہو۔ اس کے علاوہ اسرائیل سے لبنان کے تمام مقبوضہ علاقوں سے اپنی فوج واپس بلانے اور جنگ بندی کے معاہدے پر سختی سے عمل کرنے کی اپیل کی گئی۔برکس اجلاس سے عین قبل پی ایم مودی کی ابوظبی، ملیشیا اور ایتھوپیا کے سربراہان سے ہوئی بامعنی ملاقات!ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیوں پر برکس کو کیا ہے اعتراض؟برکس رہنماؤں نے کسی ملک کا نام لیے بغیر، لیکن موجودہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے منمانے ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹوں پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ گروپ نے کہا کہ ماحولیات یا قومی سیکورٹی کے بہانے تحفظ پسند پالیسیاں اپنانا اور عالمی تجارتی تنظیم کے قوانین کو نظرانداز کرتے ہوئے ٹیرف عائد کرنا بین الاقوامی تجارت کو تباہ کر رہا ہے۔ اس سے عالمی سپلائی چین مکمل طور پر متاثر ہو رہی ہے اور غریب اور ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی ترقی پر گہرا بحران منڈلا رہا ہے۔یکطرفہ اقتصادی پابندیوں کے خلاف برکس نے کیا موقف اختیار کیا؟برکس ممالک نے مشترکہ اعلامیہ میں دو ٹوک کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی واضح منظوری کے بغیر عائد کی جانے والی تمام یکطرفہ اقتصادی پابندیاں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی براہ راست خلاف ورزی ہیں۔ ایسے تعزیری اقدامات اور ثانوی پابندیوں کا سب سے برا اثر عام شہریوں کے انسانی حقوق، صحت خدمات، غذائی تحفظ اور ترقی کے حق پر پڑتا ہے۔ اس طرح کی من مانی پابندیوں سے کمزور اور غریب طبقے کو سب سے زیادہ اقتصادی نقصان اٹھانا پڑتا ہے، اس لیے انہیں فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔عالمی معیشت میں برکس کا بڑھتا وزن، پوتن کا جی-7 کے مقابلہ میں 40 فیصد سے زائد حصے کا دعویٰمغربی ایشیا کے بحران اور جوہری تحفظ پر کیا فیصلہ ہوا؟برکس رہنماؤں نے مغربی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام فریقوں سے انتہائی تحمل سے کام لینے کی اپیل کی۔ مشترکہ نئی دہلی اعلامیہ میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے حفاظتی معیارات کے تحت آنے والے پُرامن جوہری مراکز اور شہری بنیادی ڈھانچے پر قصداً کیے جانے والے حملوں کی سخت مذمت کی گئی۔ سرکردہ رہنماؤں نے دہرایا کہ مسلح تنازعہ کے دوران بھی جوہری تحفظ اور حفاظتی معیارات پر ہر حال میں مکمل طور پر عمل ہونا چاہیے، تاکہ انسانی جانوں اور ماحولیات کا تحفظ کیا جا سکے۔سلامتی کونسل میں ہندوستان کی دعویداری پر کیا اتفاق ہوا؟برکس رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ جمہوری، مؤثر اور نمائندہ بنانے پر زور دیا۔ سلامتی کونسل کے 2 مستقل رکن ممالک چین اور روس نے سلامتی کونسل میں ہندوستان اور برازیل کے بڑے کردار اور مستقل رکنیت کی خواہشات کی ایک بار پھر کھل کر حمایت دہرائی۔ مشترکہ اعلامیہ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ترقی پذیر ممالک کو سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سکریٹریٹ کے اعلیٰ عہدوں پر مناسب نمائندگی ملنی چاہیے۔برکس اجلاس: ہندوستان سفارتی بارودی سرنگ کے دہانے پر... آشیش رےآئی ایم ایف اور عالمی بینک میں کن اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا؟برکس ممالک نے مطالبہ کیا کہ بریٹن ووڈز اداروں، آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی تنظیم نو کی جائے، تاکہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کی شراکت داری ان کی حقیقی اقتصادی حیثیت کے مطابق طے ہو سکے۔ آئی ایم ایف کے 16ویں اور 17ویں جنرل ریویو آف کوٹہ کے تحت ترقی پذیر ممالک کی ووٹنگ پاور بڑھانے پر زور دیا گیا۔ رہنماؤں نے واضح کیا کہ کسی بھی اصلاح میں سب سے غریب ممالک کے حقوق کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے اور رضاکارانہ تعاون کی بنیاد پر ووٹنگ کے حقوق میں امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔عالمی تجارتی تنظیم کو مضبوط بنانے کے لیے کیا کہا گیا؟برکس گروپ نے عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کو مرکز میں رکھتے ہوئے ایک کھلی، منصفانہ، شفاف اور قوانین پر مبنی تجارتی نظام کی حمایت کی۔ مشترکہ اعلامیہ میں ڈبلیو ٹی او کے 2 سطحی لازمی تنازعہ حل کرنے والے نظام کو بغیر کسی تاخیر کے مکمل طور پر فعال کرنے اور اپیل ادارے کے نئے ارکان کی فوری تقرری کا مطالبہ کیا گیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ تنازعات کے حل کا نظام ٹھپ ہونے سے کمزور ممالک کے تجارتی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، جسے فوری طور پر درست کرنا ضروری ہے۔