ایرانی صدر نے امریکیوں کے سامنے اہم سوال رکھ دیا

Wait 5 sec.

تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر امریکی جنگجو ہیں تو انھیں ایرانی بہادر فوج کا سامنا کرنا چاہیے، شہری بنیادی ڈھانچے اور خوراک کے ذخائر کو نشانہ بنا کر جنگ کیوں کی جا رہی ہے؟مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ اگر وہ انسان ہیں تو لوگوں کو پانی، کھانے اور ادویات سے محروم کیوں کیا جا رہا ہے؟ ایرانی صدر نے عزم کا اظہار کیا کہ ہمارے لوگوں کو دھمکا کر جھکایا نہیں جا سکتا، ایران کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گا۔If Americans are warriors, let them face our valiant military forces. Why wage war on civilian infrastructure, food supplies, and livelihoods? If they’re human, why deny people access to water, food, and medicine? Our people can’t be bullied into submission. Iran won’t surrender.— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) September 12, 2026واضح رہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نئی دہلی میں برکس سمٹ میں شرکت کے لیے بھارت کے تین روزہ دورے پر ہیں، وہ جمعہ 11 ستمبر کو نئی دہلی پہنچے تھے، یہ ان کا بہ طور صدر بھارت کا پہلا دورہ ہے، ان سے پہلے ایرانی صدر حسن روحانی نے 2018 میں بھارت کا دورہ کیا تھا۔مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود برکس کا مشترکہ اعلامیہ منظوربرکس بزنس فورم سے خطاب میں پزشکیان نے کہا تھا کہ BRICS ممالک کو باہمی تجارت میں قومی کرنسیوں کا استعمال بڑھانا چاہیے، اور اس اقدام کو مؤثر بنانے کے لیے کرنسی کے اتار چڑھاؤ کے خطرے کو سنبھالنے کے نظام، باہمی ادائیگیوں کے طریقۂ کار، متبادل ادائیگی اور مالیاتی ذرائع بھی قائم کیے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی مالیاتی نظام چند غالب کرنسیوں پر بہت زیادہ منحصر ہے، اس لیے وہ سیاسی دباؤ، پابندیوں اور تجارتی رکاوٹوں کے لیے کمزور ہے۔انھوں نے نیو ڈیولپمنٹ بینک (NDB) کو بھی زیادہ فعال بنانے کی تجویز دی اور کہا کہ اسے برکس ممالک میں بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں کی مالی معاونت کا اہم ذریعہ بننا چاہیے، خصوصاً مقامی کرنسیوں میں قرضے اور ضمانتی مالیاتی آلات فراہم کر کے۔