نئی دہلی کے ’بھارت منڈپم‘ میں ہفتے کے روز وزیر اعظم نریندر مودی نے برکس ڈنر کی میزبانی کی۔ لیکن پوری محفل میں ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم توجہ کا مرکز رہے۔ انہوں نے پیانو کی دھن پر کشور کمار کے نغمے گائے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ دراصل ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے برکس اجلاس کے موقع پر 1965 کی فلم ’تین دیویاں‘ کا مشہور گانا ’خواب ہو تم یا کوئی حقیقت‘ گایا۔ برکس اجلاس کے لیے ہندوستان آئے انور ابراہیم کو دہلی کے ایک ہوٹل میں یہ کلاسک ہندی گانا گاتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس گانے کو ایس ڈی برمن نے کمپوز کیا تھا اور مجروح سلطانپوری نے یہ نغمہ لکھا تھا۔#WATCH | Delhi: Malaysia’s Prime Minister Anwar Ibrahim sings a popular Hindi song “Khwab Ho Tum Ya Koi Haqeeqat” in Delhi.(Video source: Anwar Ibrahim/X)#BRICSSummit pic.twitter.com/E8RE9erfie— ANI (@ANI) September 12, 2026بتا دیں کہ ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم ہندوستانی سنیما اور اس کی موسیقی کو پسند کرتے ہیں۔ ان کی یہ دلچسپی ہندوستان کے ساتھ ان کی سفارتی ملاقاتوں میں بھی جھلکتی ہے۔ انور براہیم پہلے بھی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بات چیت کے دوران بالی ووڈ سے اپنی وابستگی کا اظہار کر چکے ہیں۔ وزیر اعظم مودی کے ملیشیا دورے کے دوران انور ابرہیم نے دورے کی ایک سرکاری ویڈیو مونٹاج شیئر کی تھی، جس میں ’کبھی خوشی کبھی غم‘ فلم کا مشہور گانا ’بولے چوڑیاں‘ بج رہا تھا۔ ہندوستان کے دورے کے دوران انور نے ملک کی تہذیب، ثقافت اور تاریخ کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین مسائل کو حل کر لیا جائے گا۔2022 میں ملیشیا کے وزیر اعظم بننے کے بعد انور ابراہیم کا یہ پہلا ہندوستان دورہ ہے۔ اس دورے کے دوران ہندوستان اور ملیشیا نے اپنے دو طرفہ تعلقات کو ’وسیع اسٹریٹجک شراکت داری‘ کی سطح تک بڑھایا اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سیاحت سمیت کئی معاہدوں پر دستخط کیے۔2019 میں ہندوستان اور ملیشیا کے تعلقات میں کشیدگی آ گئی تھی، جب اس وقت کے ملیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے ہندوستان کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔ انور ابراہیم کے اس دورے نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کی نئی کوشش کی عکاسی کی ہے۔ ’وسیع اسٹریٹجک شراکت داری‘ کی سطح تک پہنچنے اور اہم شعبوں میں معاہدوں سے دو طرفہ تعلقات کو نئی رفتار ملی ہے۔