مدھیہ پردیش کے ساگر ضلع، بنڈا علاقے میں زہریلی شراب سانحے سے متعلق کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ ہفتے کے روز ساگر پہنچے۔ انہوں نے پاپیٹ سمیت متاثرہ گاؤوں میں پہنچ کر متاثرہ خاندانوں اور مہلوکین کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ دگ وجے سنگھ نے متاثرین سے واقعے کی معلومات لی اور ان کے حالات کا جائزہ لیا۔ دگ وجے سنگھ نے الزام عائد کیا کہ علاقے میں طویل عرصے سے غیر قانونی شراب کا کاروبار چل رہا تھا، لیکن انتظامیہ نے بروقت مؤثر کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر غیر قانونی شراب کے کاروبار پر پہلے ہی روک لگا دی جاتی تو اتنی بڑی تعداد میں جانیں نہیں جاتیں۔सागर में जहरीली शराब कांड के पीड़ितों से मिले दिग्विजय सिंह, अस्पताल पहुंचकर जाना हाल #DigvijayaSingh #Congress #Sagar #MadhyaPradesh pic.twitter.com/e4ZD89TQnX— Vistaar News (@VistaarNews) September 12, 2026سابق وزیر اعلیٰ نے انتظامیہ پر اموات کی تعداد چھپانے کا سنگین الزام عائد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس پورے معاملے میں تقریباً 45 افراد کی موت ہو چکی ہے اور زہریلی شراب کا معاملہ سامنے آنے سے کئی دنوں پہلے سے ہی علاقے میں اموات کا سلسلہ جاری تھا۔ حالانکہ انتظامیہ کی جانب سے اب تک سامنے آئے سرکاری اعداد و شمار دگ وجے سنگھ کے دعوے سے مختلف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کے بعد دگ وجے سنگھ بندیل کھنڈ میڈیکل کالج (بی ایم سی) پہنچے۔ یہاں انہوں نے زہریلی شراب کے معاملے میں داخل مریضوں سے ملاقات کی اور صحت سے متعلق معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے ’ساگر گولڈ‘ نام کی شراب کو لے کر بھی سوال اٹھائے۔ دگ وجے سنگھ کا الزام ہے کہ اس کے استعمال سے لوگوں کی موت ہوئی اور کچھ لوگوں کی آنکھوں کی بینائی بھی متاثر ہوئی ہے۔’ایک لاکھ سرکاری اسکول بند، 10 لاکھ اساتذہ کے عہدے خالی!‘ دگ وجے سنگھ نے تعلیمی نظام کے بحران پر اٹھائے سوالدگ وجے سنگھ نے ملزمین کی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کی گئی بلڈوزر کارروائی پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے اس کارروائی کو نمائشی قرار دیا۔ انہوں نے معاملے سے وابستہ دیگر لوگوں اور بااثر افراد کی جائیدادوں کی بھی جانچ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سابق وزیر اور وزیر سے وابستہ ہوٹل اور بار کی بھی جانچ کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی غیر جانب دارانہ ہونی چاہیے۔ دگ وجے سنگھ نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے کے لیے کانگریس آئندہ بھی احتجاج کرے گی۔ انہوں نے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی، پورے معاملے کی غیر جانب دارانہ جانچ اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے کا مطالبہ دہرایا۔