خام تیل کی قیمت میں پھر لگی آگ، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے سبب برینٹ کروڈ کی قیمت 107 ڈالر فی بیرل کے پار

Wait 5 sec.

پیر کے روز خام تیل کے بازار میں اچانک بڑی تیزی دیکھنے کو ملی۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمتیں چھلانگ لگاتے ہوئے 107 ڈالر فی بیرل کی سطح کو پار کر گئی ہیں۔ دراصل مشرق وسطیٰ میں مسلسل بڑھتی کشیدگی نے پوری دنیا کی توانائی سپلائی چین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ نومبر میں ڈیلیوری والے برینٹ کروڈ کی قیمتیں 2.8 فیصد بڑھ کر 107.54 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہیں۔ دوسری جانب اکتوبر میں ڈیلیوری والے امریکی بنچ مارک ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمتوں میں بھی 2.3 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جس سے یہ 102.34 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔مارکیٹ کے ماہرین کی مانیں تو خام تیل کی قیمتوں میں یہ تیزی اچانک نہیں آئی ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی دونوں کانٹریکٹس میں اضافہ درج کیا گیا تھا، جب قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر نکل گئی تھیں۔ لیکن اب سرمایہ کاروں کی پوری توجہ مشرق وسطیٰ پر آ گئی ہے۔ یہاں کے اہم برآمدی راستوں پر سیکورٹی کا بڑا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ ایک تازہ پیش رفت میں سعودی عرب کو ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان حملوں کے فوراً بعد سعودی عرب نے اپنی اہم ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کر دیا۔ اس فیصلہ نے عالمی بازار میں سپلائی رکنے کے خدشے کو مزید بڑھا دیا ہے۔سپلائی چین کے لیے بحران صرف پائپ لائن بند ہونے تک محدود نہیں ہے۔ دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک آبنائے ہرمز میں بھی حالات انتہائی کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔ اتوار کو اسی علاقے میں ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام نے خود اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس حملے میں ایک شخص کی جان چلی گئی، جبکہ 3 دیگر افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔کبھی اس راستے سے تجارتی جہاز بغیر کسی پریشانی کے گزرا کرتے تھے۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے یہاں آمد و رفت میں کسی بھی طرح کی روک ٹوک نہیں تھی، لیکن اب ایران نے حالات کو اپنے قابو میں کرنے کی کوشش تیز کر دی ہے۔ ایران نے قواعد سخت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب کسی بھی جہاز کو وہاں سے گزرنے کے لیے پہلے اجازت لینی ہوگی۔ اس کے علاوہ ایران ایک ایسا نظام بھی تیار کر رہا ہے، جس کے تحت جہازوں سے سروس فیس وصول کی جا سکے۔ جو جہاز ایران کی ان شرائط کو نہیں مانتے، ان پر ایرانی فوج حملے کر رہی ہے۔ ایران کے اس کنٹرول کو توڑنے کے لیے امریکہ بھی اپنا پورا زور لگا رہا ہے۔ امریکہ مسلسل ایرانی ساحلوں پر بمباری کر کے اسے چیلنج کر رہا ہے، جس سے تصادم کی صورت حال بنی ہوئی ہے۔اس درمیان عمان نے ایران کے ساتھ خلیجی ممالک کی ہونے والی ایک انتہائی اہم بات چیت کو فی الحال ملتوی کر دیا ہے۔ اس بات چیت میں آبنائے ہرمز کے مستقبل سے متعلق کوئی ٹھوس راستہ نکالا جانا تھا۔ اب بات چیت ملتوی ہونے سے بازار میں یہ پیغام پہنچا ہے کہ فی الحال مشرق وسطیٰ کا یہ بحران آسانی سے حل ہونے والا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خام تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔