18ویں برکس سربراہی اجلاس کے لیے ہندوستان پہنچے ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے اجلاس ختم ہونے کے بعد کیرالہ کا دورہ کیا۔ یہاں انہوں نے ’سنی کلچرل سنٹر‘ میں منعقدہ ذکر و دعا کی مجلس میں شرکت کی۔ اس موقع پر ہندوستان کے گرینڈ مفتی شیخ ابوبکر احمد کی موجودگی میں انہیں ’شیخ ابوبکر فاؤنڈیشن ایکسیلنس ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’’سنی کلچرل سنٹر میں مجھے ملیشیا کے وفد کے ساتھ ذکر و دعا کی مجلس میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس پروگرام میں کیرالہ کے معزز علماء اور تقریباً 2000 طلبا نے شرکت کی۔ اس مجلس کی قیادت ہندوستان کے گرینڈ مفتی شیخ ابوبکر احمد نے کی۔‘‘Di Markaz Saquafathi Sunniya, saya bersama delegasi Malaysia diraikan dalam satu Majlis Zikir dan Doa yang menghimpunkan para ulama kehormat dari Kerala dan kira-kira 2,000 penuntut ilmu yang dipimpin oleh Mufti Besar India, Sheikh Abubakr Ahmad.Alhamdulillah, saya telah… pic.twitter.com/q1qFhQLNm2— Anwar Ibrahim (@anwaribrahim) September 14, 2026وزیر اعظم ابراہیم نے شیخ ابوبکر فاؤنڈیشن ایکسی لینس ایوارڈ سے نوازے جانے کی جانکاری بھی دی اور کہا کہ میں اس اعزاز کو انتہائی عاجزی کے ساتھ قبول کرتا ہوں اور اسے ان تمام علماء، مبلغین، سائنس دانوں اور علم سے محبت کرنے والوں کے نام کرتا ہوں، جنہوں نے لوگوں تک ایمان و عقیدے کا پیغام پہنچانے اور امت کے وقار کو بلند کرنے کے لیے اپنا وقت، دل اور زندگی وقف کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملیشیا آئندہ بھی علماء کے ساتھ مل کر تعلیمی اور مذہبی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔ اس میں حدیث کی کتابوں کے مطالعے اور ان کی تکمیل کی تقریبات جیسے پروگرام بھی شامل ہیں۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ یہ کوششیں ملیشیا اور کیرالہ کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کریں، علم کی روایت کو مالا مال کریں اور ایسی نسل تیار کریں جو اپنے ایمان میں مضبوط، علم میں مالا مال اور کردار میں بہترین ہو۔Selamat tiba di Kerala dan langsung ke Markazu Saquafathi Sunniya di Karanthur, dalam rangka Ziarah Mahabbah kepada Syekh Abu Bakar Ahmad, Mufti Besar India. Alhamdulillah, dalam kesempatan kunjungan kali ini, kami sempat bertukar pandangan terkait cabaran kecerdasan buatan… pic.twitter.com/AggSX5XSgt— Anwar Ibrahim (@anwaribrahim) September 13, 2026انور ابراہیم نے بتایا کہ کرنتھور واقع مرکز الثقافۃ السنیہ میں منعقدہ زیارۃ محبۃ پروگرام کے دوران گرینڈ مفتی شیخ ابوبکر احمد سے ملاقات کا موقع ملا۔ اس دوران مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق چیلنجز اور مواقع پر خیالات کے تبادلے کا بھی موقع حاصل ہوا۔ انور ابراہیم نے کہا کہ اے آئی علم، تحقیق اور ترقی کے نئے راستے کھول رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ایمان، عقیدے، اخلاقی اقدار اور انسان کی فکری آزادی کے لیے کچھ اہم چیلنجز بھی لے کر آ رہی ہے۔ اسی وجہ سے ہم نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ اے آئی کے لیے ایسا نقطۂ نظر تیار کیا جائے جو اسلامی اصولوں پر مبنی ہو۔ اس کا مقصد تکنیکی ترقی اور انسانی اقدار، اخلاقیات اور انسانیت کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بحث کو مزید آگے بڑھایا جائے گا تاکہ مصنوعی ذہانت کی ترقی سے مکمل فائدہ اٹھایا جا سکے، لیکن ساتھ ہی ایمان، اخلاقی اقدار اور انسانیت سے کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔