جموئی کے بعد اب سمستی پور میں لڑکی کے ساتھ بدسلوکی، 4 ملزمین گرفتار

Wait 5 sec.

بہار کے جموئی میں نابالغ لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کا معاملہ ابھی زیر بحث ہی تھا کہ اب سمستی پور سے بھی ایسا ہی ایک معاملہ سامنے آیا ہے۔ سمستی پور ضلع کے کرپوری گرام تھانہ علاقہ کے جگت سنگھ پور گاؤں میں ایک لڑکی کے ساتھ کچھ نوجوانوں کی جانب سے چھیڑ چھاڑ، گالی گلوج اور بدسلوکی کیے جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس معاملے کی جانچ میں مصروف ہو گئی ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس واقعہ سے متعلق 4 ملزمین کی گرفتاری بھی ہوئی ہے۔ SHOCKING | Jamui-like incident reported in Samastipur, Bihar.A girl was allegedly surrounded, abused and harassed by men on a public road.A video claimed to be from the Karpoori Gram area has surfaced. pic.twitter.com/3v4L4SMKEs— News Matrix (@NewsMatrixIND) September 24, 2026بتایا جا رہا ہے کہ بدھ (23 ستمبر) کی شام ایک لڑکی ایک لڑکے کے ساتھ جگت سنگھ پور گاؤں کی باندھ بائی پاس سڑک سے گزر رہی تھی۔ اسی دوران لڑکی راستے میں رک کر تصویر لے رہی تھی۔ الزام ہے کہ اسی وقت آس پاس کے کچھ نوجوان وہاں پہنچ گئے اور لڑکی کے ساتھ گالی گلوج کرنے لگے۔ اس کے بعد اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور نازیبا طریقے سے چھونے کا بھی الزام ہے۔ اسی دوران کسی شخص نے پورے واقعہ کی ویڈیو اپنے موبائل میں ریکارڈ کر لی۔ کچھ دیر بعد یہی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد معاملہ پولیس تک پہنچا اور پولیس نے جانچ شروع کر دی۔مقامی لوگوں کے مطابق وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے نوجوان جگت سنگھ پور گاؤں کے ہی رہنے والے ہیں۔ تاہم، ابھی پولیس نے کسی ملزم کی شناخت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔ پولیس ویڈیو کی بنیاد پر ملزمین کی شناخت کرنے میں مصروف ہے۔ حالانکہ میڈیا میں آ رہی کچھ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ 4 ملزمین کی گرفتاری ہو چکی ہے۔ویڈیو سامنے آنے کے بعد سمستی پور پولیس نے معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ ایس پی اروند پرتاپ سنگھ نے کہا کہ معاملہ انتہائی حساس ہے اور ملزمین کو کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔ پولیس جائے وقوع، وائرل ویڈیو کی صداقت اور اس میں نظر آنے والے لوگوں کی شناخت کی جانچ کر رہی ہے۔ پولیس کی جانچ مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ واقعہ میں کون کون لوگ شامل تھے اور وائرل ویڈیو میں کیے جا رہے دعوؤں کی پوری حقیقت کیا ہے۔