لکھنؤ: سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے الزام عائد کیا ہے کہ ریاست میں پسماندہ، دلت اور اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افسران کو چن چن کر انتخابی ڈیوٹی سے ہٹایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی ایسے افسران کی فہرست تیار کرے گی اور معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے اٹھائے گی۔لکھنؤ میں پیر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ ’پی ڈی اے‘ یعنی پسماندہ، دلت اور اقلیتی برادریوں سے وابستہ افسران کو نشان زد کیا جا رہا ہے اور انہیں اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر (اے آر او) سمیت انتخابی ذمہ داریوں اور انتظامی کاموں سے دور رکھا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’پی ڈی اے سماج کے افسران کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ہٹایا جا رہا ہے۔ یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ انتخابی کام دیکھنے کے لیے کوئی پسماندہ، دلت یا اقلیتی افسر نہ رہے۔ ہم ایسے معاملات کی ایک فہرست بنائیں گے اور اسے سب کے سامنے جاری کریں گے۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن سے بھی شکایت کریں گے۔‘‘اکھلیش نے صحافیوں سے کہا کہ اگر انہیں انتخابی کام انجام دینے والے یا ریٹرننگ آفیسر بننے والے کسی ایسے افسر کے بارے میں معلومات ہوں جو پی ڈی اے برادری سے تعلق رکھتا ہو تو وہ پارٹی کو اس کی اطلاع دیں۔ایس پی سربراہ نے ان بوتھ لیول افسران (بی ایل او) کی تفصیلات بھی طلب کیں جن سے چیف الیکشن کمشنر نے اتر پردیش کے حالیہ دورے کے دوران ملاقات کی تھی۔ انہوں نے انتخابی مشینری سے ای وی ایم کے معائنے میں شامل انجینئرز کی فہرست بھی مانگی۔اکھلیش نے کہا، ’’چیف الیکشن کمشنر آئے تھے۔ انہوں نے جن بی ایل او سے ملاقات کی، ان کی فہرست کہاں ہے؟ انہوں نے جن لوگوں سے بات چیت کی، ان کی فہرست کہاں ہے؟ ای وی ایم کا معائنہ کرنے والے انجینئرز کی فہرست کہاں ہے؟ نہ آپ کے پاس فہرست ہے اور نہ ہمارے پاس۔‘‘ریاست میں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے ہیں اور انتخابی تیاریوں کے درمیان اکھلیش نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر بھی حملہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جس دن انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہوگا، اسی دن بی جے پی انتخاب ہار جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کی فلم ریلیز ہونے سے پہلے ہی فلاپ ہو چکی ہے۔‘‘خواتین کے لیے مجوزہ مالی امدادی اسکیم کے بارے میں سوال پر اکھلیش نے کہا کہ اگر اتر پردیش میں ایس پی کی حکومت بنتی ہے تو اس اسکیم کے تحت دی جانے والی رقم کو بڑھا کر دو لاکھ روپے کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایس پی نے پہلے اس اسکیم کے تحت 40 ہزار روپے دینے کا فیصلہ کیا تھا، جبکہ بی جے پی تقریباً 50 ہزار روپے کی بات کر رہی ہے اور بعد میں اسے ایک لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے۔اکھلیش نے پارٹی کی ’پی ڈی اے آڈٹ رپورٹ‘ کا بھی حوالہ دیا اور الزام لگایا کہ تقریباً 11 ہزار عہدوں پر تقرریوں میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے اس آڈٹ رپورٹ کے کسی بھی صفحے کا جواب نہیں دیا۔ انہوں نے آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کے ذریعے بدعنوانی کیے جانے اور ملازمین کو مختصر مدت کے معاہدوں پر ملازمت دیے جانے کا بھی الزام عائد کیا۔ایس پی صدر نے اتر پردیش کے مختلف علاقوں میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی مورتیوں کو نقصان پہنچائے جانے کا الزام بھی لگایا۔ ان کے مطابق پارٹی نے ایسے 151 واقعات کی رپورٹ تیار کی ہے۔ ریاست کی تقسیم کے مطالبے پر اکھلیش نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ملک کو تقسیم کرنے کی بات کرتے ہیں، وہی ریاست کو بھی تقسیم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔