پنجاب کے سنگرور ضلع میں نشہ کے مسئلہ پر زہر کھانے والے جگا سنگھ کو پٹیالہ کے گورنمنٹ راجندر اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ سنگرور ضلع کے سنام اسمبلی حلقہ واقع نمول گاؤں کے باشندہ جگسیر سنگھ عرف جگا سنگھ نے گاؤں میں منشیات کی فروخت روکنے میں ناکامی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سنگرور کے ڈی سی دفتر کے قریب زہریلی چیز نگل لی تھی۔.@ArvindKejriwal gave a guarantee to eradicate drugs in Punjab within 4 months, but has completely failed to stop the menace.More disturbing is that those exposing the ground reality are allegedly facing threats and pressure.After the death of Gulzar Singh, another disturbing… pic.twitter.com/cnMqndnhir— Pargat Singh (@PargatSOfficial) September 21, 2026جگا سنگھ کا الزام ہے کہ ان کے گاؤں میں طویل عرصہ سے نشہ آور اشیا فروخت کی جا رہی ہیں، لیکن اسے روکنے کے لیے مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی تھی۔ اسی بات سے ناراض ہو کر انہوں نے سنگرور میں ڈی سی دفتر کے قریب زہریلی چیز کھا لی۔ اس کے بعد ان کی طبیعت بگڑ گئی اور انہیں علاج کے لیے اسپتال لے جایا گیا۔ جگا سنگھ نے بتایا کہ انہوں نے سلفاس کھایا ہے۔ اس معاملہ میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نوجوان نے ’فرنیل‘ نامی زہریلی چیز کھائی ہے۔ حالت سنگین ہونے کے بعد انہیں بہتر علاج کے لیے پٹیالہ کے گورنمنٹ راجندر اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ان کی حالت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔جگا سنگھ کا کہنا ہے کہ گاؤں میں منشیات کی فروخت کے سلسلے میں مقامی سطح پر پہلے بھی اطلاع دی گئی تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ گاؤں کے سرپنچ کو بھی منشیات کی فروخت کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ اس کے باوجود اس مسئلے پر روک نہیں لگائی جا سکی۔ بہرحال، جگا سنگھ کے زہر کھانے کے بعد سنگرور میں نشہ کے مسئلہ کو لے کر سیاسی تنازعہ بڑھ گیا ہے۔ سوال اٹھ رہے ہیں کہ گاؤں میں مبینہ طور پر منشیات کی فروخت پر روک لگانے کے لیے انتظامیہ اور مقامی سطح پر کتنی مؤثر کارروائی کی جا رہی ہے۔ تاہم، ان الزامات پر متعلقہ افسران کی جانب سے تفصیلی ردعمل سامنے آنا ابھی باقی ہے۔ فی الحال جگا سنگھ کا علاج پٹیالہ کے سرکاری اسپتال میں جاری ہے۔