میساچوسٹس : امریکا میں اپنے 3 معصوم بچوں کے قتل میں ملوث ملزمہ لنڈسے کلینسی کیخلاف مقدمہ جیوری کے متفقہ فیصلے پر نہ پہنچنے کی وجہ سے غیر مؤثر قرار دے دیا گیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست میساچوسٹس میں 36 سالہ لنڈسے کلینسی پر اپنے تین بچوں (5 سالہ کورا، 3 سالہ ڈاسن اور 8 ماہ کے کالن) کے قتل کا مقدمہ چل رہا ہے۔عدالت کی جانب سے مقدمہ بے نتیجہ قرار دیے جانے کے بعد لنڈسے کلینسی کے سابق شوہر پیٹرک کلینسی پہلی بار میڈیا پر سامنے آگئے۔امریکی پروگرام 60 منٹس میں گفتگو کرتے ہوئے پیٹرک نے اپنے 3 بچوں کے قتل سابق اہلیہ کی ذہنی صحت اور مقدمے کے دوران سامنے آنے والی سوشل میڈیا قیاس آرائیوں پر بات کی۔جنوری 2023 میں میساچوسٹس کی رہائشی لنڈسے کلینسی پر اپنے تین بچوں، 5 سالہ کورا، 3 سالہ ڈاسن اور 8 ماہ کے کیلان کو قتل کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔دفاع نے مؤقف اختیار کیا کہ واقعے کے وقت لنڈسے پوسٹ پارٹم سائیکوسس کا شکار تھیں اور اسی وجہ سے انہیں اپنے اعمال کی مجرمانہ ذمہ داری کا ادراک نہیں تھا۔مقدمے میں لنڈسے نے بچوں کی ہلاکت سے انکار نہیں کیا، تاہم مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مؤقف اپنایا۔11ججوں نے بریت کے حق میں رائے دیمقدمے کی سماعت کے بعد 12 رکنی جیوری کسی متفقہ فیصلے تک نہ پہنچ سکی، جس پر 4 ستمبر 2026 کو جج نے مِس ٹرائل کا اعلان کردیا۔رپورٹس کے مطابق 11 ججوں کا خیال تھا کہ لنڈسے ذہنی بیماری کے باعث مجرمانہ طور پر ذمہ دار نہیں تھیں، جبکہ ایک جج نے ان کے مجرمانہ طور پر ذمہ دار ہونے کے حق میں رائے دی۔مقدمہ ختم ہونے کے بعد بھی لنڈسے کے خلاف الزامات برقرار ہیں اور یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ استغاثہ دوبارہ مقدمہ چلانے کی درخواست کرتا ہے یا نہیں، کیس کی اگلی سماعت 29 ستمبر کو مقرر ہے۔ پیٹرک نے سابق اہلیہ کا دفاع کیاپروگرام 60منٹس میں گفتگو میں پیٹرک نے سابق اہلیہ کو ’قاتل ماں‘ اور ’عفریت‘ قرار دینے والے القابات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الفاظ اس کی ذہنی حالت کی درست عکاسی نہیں کرتے۔ان کے مطابق سانحے کو سمجھنے کے لیے زچگی سے قبل اور بعد کی ذہنی صحت کے مسئلے پر توجہ دینا زیادہ اہم ہے۔پیٹرک نے بتایا کہ وہ لنڈسے کو معاف کرچکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ اسے معاف نہ کرتے تو یہ غصہ اور تلخی انہیں اندر سے کھا جاتی۔چھوٹے بیٹے کے آخری لمحات یاد کرتے ہوئے آبدیدہپیٹرک نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کیلان کے آخری لمحات بھی یاد کیے۔ واقعے کے بعد کیلان چار روز تک زندہ رہا اور بالآخر پیٹرک کی بانہوں میں دم توڑ گیا۔پیٹرک نے بتایا کہ ان لمحات میں وہ اپنے بچوں کے لیے خراجِ عقیدت کے الفاظ لکھ رہے تھے اور لنڈسے کو معاف کرنے کے بارے میں بھی سوچ رہے تھے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بچوں کی ہلاکت کے بعد وہ شدید ذہنی اذیت سے گزرے اور ایک وقت ایسا آیا جب انہیں محسوس ہوتا تھا کہ شاید وہ اپنی 35ویں سالگرہ تک زندہ نہ رہ سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ مقدمے میں گواہی دیتے ہوئے بھی انہیں شدید گھبراہٹ کا دورہ پڑا، تاہم انہوں نے اپنی گواہی مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔سوشل میڈیا سازشی نظریات کو مسترد کردیاپیٹرک نے انٹرنیٹ پر گردش کرنے والے ان دعوؤں کو بھی مسترد کیا جن میں انہیں اپنے بچوں کی ہلاکت سے جوڑنے کی کوشش کی گئی تھی، ان کے مطابق ایسی قیاس آرائیاں نہ صرف ان کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ اصل مسئلے، یعنی زچگی سے متعلق ذہنی صحت، سے بھی توجہ ہٹاتی ہیں۔اپنی ذمہ داری یا کسی ممکنہ کوتاہی کے احساس کے بارے میں پیٹرک نے کہا کہ وہ اس سانحے کے نتائج کے ساتھ ہر روز زندگی گزار رہے ہیں، تاہم ان کے بقول انہوں نے اس وقت دستیاب معلومات کے مطابق اپنی پوری کوشش کی تھی۔مقدمے میں آئندہ کیا ہوگا؟لنڈسے کلینسی اس وقت میساچوسٹس کے ایک ریاستی نفسیاتی اسپتال میں زیرِ حراست ہیں، مقدمے کے دوبارہ چلائے جانے، الزامات برقرار رکھنے یا کسی اور قانونی راستے کا فیصلہ آئندہ عدالتی کارروائی میں متوقع ہے۔لینڈسے کلینسی کیس : ماں نے کس کے کہنے پر 3 بچوں کو قتل کیا؟ اہم انکشاف