وزیر اعظم نریندر مودی اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اس وقت کانگریس کے نشانے پر ہیں۔ ایس آئی آر سے متعلق ہوئے نئے انکشافات نے کانگریس کو حملہ آور ہونے کا موقع دے دیا ہے اور آج ملک گیر سطح پر کانگریس لیڈران و کارکنان سڑک پر نکل کر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ اس درمیان کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے ایک پریس کانفرنس کر کچھ اہم باتیں میڈیا کے سامنے رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’جب آئین بنا، تب ایک بات پر بہت زور دیا گیا تھا کہ ملک کے ہر شہری کے ووٹ کی قیمت یکساں ہوگی۔ لیکن آج اقتدار میں ایسے آئین مخالف لوگ بیٹھ گئے ہیں، جنھوں نے وی آئی پی اور عام ووٹر کو الگ الگ زمروں میں تقسیم کر دیا ہے۔‘‘जब संविधान की रचना हुई, तब एक बात पर बड़ा जोर दिया गया कि देश के हर नागरिक के वोट की कीमत समान होगी।लेकिन आज सत्ता में ऐसे संविधान विरोधी लोग बैठ गए हैं, जिन्होंने VIP और आम वोटर को अलग-अलग श्रेणियों में बांट दिया है।देशभर में SIR के जरिए ज्ञानेश कुमार ने 13 करोड़ से ज्यादा… pic.twitter.com/kIUhKDNISb— Congress (@INCIndia) September 25, 2026پون کھیڑا نے بڑی تعداد میں ووٹرز کو حق رائے دہی سے محروم رکھے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ملک بھر میں ایس آئی آر کے ذریعہ گیانیش کمار نے 13 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو ووٹ کے حق سے محروم کر دیا۔ اس کی قلعی راہل گاندھی کافی وقت سے کھول رہے تھے، لیکن کئی لوگ ماننے کو راضی نہیں تھے۔ لیکن آج حقیقت سب کے سامنے آ گئی ہے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’الیکشن کمیشن نے تقریباً نصف دہلی والوں کے ووٹ کاٹ دیے، لیکن وی آئی پی ووٹرس کی الگ کیٹگری بنا دی۔‘‘ اس بارے میں اہم حقائق پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’حال ہی میں رپورٹرس کلیکٹیو نے رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایس آئی آر سے منسلک افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ جلد از جلد وی آئی پی ووٹرس کو شناخت کر کے نشان زد کیا جائے۔ اب ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بی ایل او ایپ میں ایک نئی ’وی آئی پی‘ ووٹر کیٹگری بنا دی گئی ہے۔‘‘ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ’’بی ایل او ایپ میں جوڑے گئے اس فیچر میں کئی ورژن ہیں، جن میں ’وی آئی پی‘ ووٹر کیٹگری کا ذکر ہے اور الیکشن کمیشن سے جڑے عہدیدار ان وی آئی پی ووٹرس کے گھر گھر جا کر انھیں مارک (نشان زد) کریں گے۔‘‘चुनाव आयोग ने लगभग आधे दिल्ली वालों के वोट काट दिए, लेकिन VIP वोटर्स की अलग कैटेगरी बना दी।⦿ हाल ही में रिपोर्टर्स कलेक्टिव ने रिपोर्ट में बताया था कि SIR से जुड़े अधिकारियों को निर्देश दिए गए हैं कि जल्द से जल्द VIP वोटर्स को Identify करके मार्क किया जाए⦿ अब हिंदुस्तान… pic.twitter.com/rxU3ImGoae— Congress (@INCIndia) September 25, 2026ایس آئی آر کے دوران بے ضابطگی کا ذکر بھی پون کھیڑا نے میڈیا کے سامنے بے باکی کے ساتھ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے مسئلہ کا حل الیکشن کمیشن 2 گھنٹے میں کر دیتا ہے، لیکن شالیمار باغ میں کوئی سبزی فروخت کرنے والا ہو تو اسے دن بھر لائن میں کھڑا رہنا ہوگا، کیونکہ وہ وی آئی پی نہیں ہے۔ یہ نریندر مودی کا ’نیا ہندوستان‘ ہے۔‘‘ اس وی آئی پی کیٹگری کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے وی آئی پی دَرشن دیکھے، وی آئی پی قطار دیکھی، لیکن کبھی وی آئی پی ووٹر نہیں دیکھا تھا، لیکن گیانیش کمار نے ہمیں یہ بھی دکھا دیا۔‘‘मुख्यमंत्री रेखा गुप्ता जी की सुनवाई का निवारण चुनाव आयोग 2 घंटे में कर देता है, लेकिन शालीमार बाग में कोई सब्जी बेचने वाला हो तो उसे दिनभर लाइन में खड़ा रहना होगा, क्योंकि वो VIP नहीं है।ये नरेंद्र मोदी का ‘नया भारत’ है।हमने VIP दर्शन देखे, VIP लेन देखी, लेकिन कभी VIP मतदाता… pic.twitter.com/VU37yPy2fA— Congress (@INCIndia) September 25, 2026پون کھیڑا نے الزام عائد کیا کہ گیانیش کمار اس وقت پوری طرح سے نریندر مودی کی مٹھی میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی نے گیانیش کمار کی ایسی حالت کر دی ہے کہ اب وہ کہیں منھ نہیں دکھا پا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گیانیش کمار کے پروگرام پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، لیکن وہ پروگرام ہی کیسنل کر دے رہے ہیں۔‘‘ وہ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’گیانیش کمار کے آقا نریندر مودی نے ملک کے ہر ادارہ کو تہس نہس کر دیا ہے۔ اسی طرح گیانیش کمار بھی الیکشن کمیشن کو تنہا ہانک رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے باقی دونوں الیکشن کمشنرز کی بھی نہیں سنی۔‘‘ज्ञानेश कुमार के आका नरेंद्र मोदी ने देश की हर संस्था को तहत-नहस कर दिया है।उसी तरह ज्ञानेश कुमार भी चुनाव आयोग को अकेले हांक रहे थे। यही वजह है कि उन्होंने बाकी दोनों चुनाव आयुक्तों की भी नहीं सुनी।वैसे भी तानाशाह का दूत खुद 'आधा तानाशाह' ही होता है।चुनाव आयोग ने हरियाणा,… pic.twitter.com/YtZvw73rAu— Congress (@INCIndia) September 25, 2026میڈیا کے سامنے کانگریس لیڈر نے پی ایم مودی کو ’تاناشاہ‘ اور گیانیش کمار کو ’نصف تاناشاہ‘ تک کہہ ڈالا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ویسے بھی تاناشاہ کا سفیر خود ’نصف تاناشاہ‘ ہی ہوتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ہریانہ، مہاراشٹر، بہار اور بنگال... یعنی یکے بعد دیگرے کئی ریاستوں میں ووٹ چوری کر حکومتیں بی جے پی کی جھولی میں ڈال دیں۔ لیکن اب گیانیش کمار کو ہمارا مشورہ ہے ’اِٹس ڈَن برو!‘ (اب ہو گیا بھائی!)‘‘ ساتھ ہی انھوں نے گیانیش کمار سے کہا کہ ’’اب راہل گاندھی کا مشورہ مان لو... استعفیٰ دو اور گواہ بن جاؤ۔‘‘