لندن: برطانیہ نے سعودی عرب کو حوثیوں کے حملوں کے خلاف محدود دفاعی فضائی مدد فراہم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ برطانیہ سعودی عرب کو ’’دفاعی فضائی ایندھن رسانی‘‘ کی معاونت فراہم کرے گا، یہ فیصلہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کو درپیش حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔اینڈی برنہم نے کہا کہ ہم نے سعودی عرب کی محدود مدت کے لیے دفاعی فضائی ری فیولنگ کی درخواست منظور کر لی، سعودی عرب کی جانب سے فوجی مدد کی درخواست موصول ہوئی تھی جو گزشتہ رات وزیر دفاع ویس اسٹریٹنگ اور وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے مشورے پر منظور کی گئی، یہ اقدام خطے میں مجموعی استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔بی بی سی کے مطابق اس معاونت کا آغاز آئندہ چند روز میں متوقع ہے اور اس میں ایک برطانوی طیارہ Voyager شامل ہوگا، جو قبرص میں واقع آر اے ایف اکروتری سے آپریٹ کرے گا۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پیش کش ’’محدود مدت‘‘ کے لیے ہے اور ابتدائی طور پر اس کا دورانیہ ’’چند ہفتے‘‘ ہو سکتا ہے۔حوثیوں کے پائپ لائن پر حملے کے بعد سعودی عرب نے تیل کی برآمدات کیسے بڑھائیں؟یہ واحد وائجر طیارہ ان 9 طیاروں کے بنیادی بیڑے کا حصہ ہے جو رائل ایئر فورس کے پاس ہیں۔ ان میں 8 فوجی رجسٹریشن والے جب کہ ایک سویلین رجسٹریشن والا طیارہ ہے۔ ضرورت پڑنے پر رائل ایئر فورس کے پاس مزید 5 طیارے بھی فوجی استعمال کے لیے واپس بلانے کے لیے دستیاب ہیں۔حوثی یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں، جب کہ اس حکومت کو سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں انھوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کے علاوہ ملک کے بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع توانائی کے مراکز کو بھی ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔برطانوی حکام کے مطابق دفاعی معاونت میں سعودی فضائیہ کے جنگی طیاروں کو حوثیوں کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز کو مار گرانے میں مدد فراہم کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔برطانوی وزیر اعظم نے اس فیصلے کو ’’زندگی گزارنے کی قیمت‘‘ قرار دیا۔ وہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے سفر کے دوران صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے، انھوں نے کہا اس سے برطانیہ اور خطے کا مفاد وابستہ ہے، سعودی عرب کو حملوں کا سامنا ہے، اسے مزید ممکنہ خلل کا بھی خدشہ ہے، اور ہمیں ان راستوں کو کھلا رکھنا ہوگا، اسی لیے ہم نے اس درخواست سے اتفاق کیا۔‘‘واضح رہے کہ حوثیوں نے حال ہی میں موخا کی اہم بندرگاہی شہر اور پیریم جزیرے پر کنٹرول حاصل کیا ہے، جو بحیرۂ احمر کے داخلی راستے پر واقع ہے۔ یہ سعودی عرب کے لیے استعمال ہونے والے اہم بحری راستوں میں سے ایک ہے۔