تہران: ایران نے سعودی عرب اور حوثی ملیشیا کے تنازع کے حل میں مدد کی پیشکش کردی ہے۔لجزیرہ کو انٹرویو میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران سعودی عرب اور حوثی تنازع کے حل میں مدد کرسکتا ہے۔مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کا مسئلہ طاقت کے بجائے بات چیت سے حل کیا جاسکتا ہے، ثالثوں کے ذریعے پیغامات کاتبادلہ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور قطر امریکا کے ساتھ ثالثی میں کردار ادا کر رہے ہیں، باربارحملوں، پابندیوں کے باعث امریکا سے بات چیت پر اعتماد نہیں رہا۔ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر اپنی پوزیشن واضح کرنا ہوگی۔اس سے قبل قطری میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ہمیں اب واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات پر کوئی بھروسہ نہیں ہے، مذاکرات کے ہر دور کے بعد ہم حملوں اور پابندیوں کا سامنا کرتے ہیں۔یہ پڑھیں: عالمی برادری حوثی ملیشیا کے اقدامات کو مسترد کرے: سعودی عربانہوں نے کہا کہ ٹرمپ سے کیوں، کس مقصد کے لیے ملاقات کروں؟ ٹرمپ نے ہمارے ساتھ معاہدے کی بھی پاسداری نہیں کی، ہمارے لیے تجارتی راستے بند ہوں تو آبنائے ہرمز بند کرنا فطری ردعمل ہے، ہمیں اپنے خطے کے لیے کسی حکمران کی ضرورت نہیں ہے۔ایرانی صدر آبنائے ہرمز کے بحران کا حل طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں، ایران کے ساتھ طاقت کی زبان استعمال نہیں کی جانی چاہیے۔