نوزائیدہ بچے کے لیے ماں کا دودھ سب سے محفوظ اور غذائیت سے بھرپور تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ماں کا دودھ ’زہریلا‘ بھی ہو سکتا ہے۔ دراصل ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس نے انکشاف کیا ہے کہ ماں کے دودھ میں اب زہر گھل چکا ہے! لکھنؤ کی ’کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی‘ (کے جی ایم یو) کی ایک حیرت انگیز اسٹڈی میں دودھ پلانے والی 100 خواتین کے دودھ کے نمونوں کی جانچ کی گئی، جس میں کئی زہریلے کیمیکلز اور بھاری دھاتیں موجود ہونے کا پتہ چلا۔ رپورٹ کے مطابق دودھ پلانے والی خواتین کے دودھ کے نمونوں میں افلاٹاکسن ایم 1، اوکراٹاکسن سمیت کئی زہریلے مادے اور کچھ بھاری دھاتیں پائی گئی ہیں۔ یہ تحقیق ستمبر میں ’جرنل آف فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی‘ میں شائع ہوئی ہے۔सावधान,मां के दूध में ज़हर!विस्तार से पूरी खबर देखने लिंक पर क्लिक करें https://t.co/rhBOQJeYac#HealthAlert #MaternalHealth #ChildHealth #PublicHealthAlert #Awareness pic.twitter.com/RY3YmUEYu9— Manoj Manu (@ManojManuIN) September 26, 2026کے جی ایم یو کے انسٹی ٹیوٹ آف ٹاکسیکولوجی میں کی گئی جانچ کے دوران 73 فیصد نمونوں میں افلاٹاکسن ایم 1 اور 96 فیصد نمونوں میں اوکراٹاکسن پایا گیا۔ اس کے علاوہ پھپھوند سے بننے والے کچھ دیگر کیمیکلز، زیئرالینون، الفا زیئرالینول اور بیٹا زیئرالینول بھی نمونوں میں پائے گئے۔ کرومیم، مینگنیز، آرسینک، کیڈمیم اور سیسہ بھی دودھ کے نمونوں میں موجود تھے۔ اس تحقیق کو پیش نظر رکھتے ہوئے ماہرین نے کیڑے مار ادویات کے ضرورت سے زیادہ استعمال پر قابو پانے کی ضرورت بتائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فصلوں میں جراثیم کش کا استعمال ماں کے دودھ میں زہر گھلنے کی وجہ ہو سکتی ہے۔بہرحال، تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دودھ کے نمونوں میں بھاری دھاتوں کی موجودگی انتہائی فکر انگیز ہے۔ دودھ کے نمونوں میں 49 فیصد مینگنیز، 42 فیصد آرسینک، 34 فیصد کیڈمیم، 26 فیصد کرومیم اور 12 فیصد سیسہ ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ زہریلے مادے خوراک اور ماحول کے ذریعے ماں کے جسم میں پہنچ کر ماں کے دودھ کے ذریعے نوزائیدہ بچے تک منتقل ہو سکتے ہیں۔ اس سے بچے کے گردوں، جگر اور دیگر اعضا کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فصلوں میں جراثیم کش ادویات کے ضرورت سے زیادہ استعمال کی وجہ سے یہ کیمیکلز غذائی زنجیر میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس پر قابو پانے کے لیے ضابطے اور رہنما ہدایات بنانے کی ضرورت ہے۔मां के दूध को लेकर सामने आई एक चिंताजनक रिपोर्ट100 स्तनपान कराने वाली महिलाओं के दूध के नमूनों की जांच73% नमूनों में एफलाटॉक्सिन M1, 96% में ओक्राटॉक्सिनआर्सेनिक, कैडमियम, सीसा समेत कई धातुओं की भी मौजूदगी#Breastfeeding #KGMU #Health #FoodSafety #खाद्यसुरक्षा #मातृस्वास्थ्य…— Gaon Junction (@gaonjunctionofc) September 26, 2026کے جی ایم یو کے شعبہ طب کے ڈاکٹر ڈی ہمانشو کے مطابق کھانے پینے کی چیزوں کے ذریعے ہی زہریلے کیمیکلز ہمارے جسم میں پہنچ رہے ہیں۔ جراثیم کش ادویات کے بہت زیادہ استعمال پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے رہنما ہدایات بنائی جانی چاہئیں۔ دوسری طرف ماہر امراض نسواں پروفیسر سیما ملہوترا کا کہنا ہے کہ فصلیں اگانے میں جراثیم کش ادویات کا استعمال کافی زیادہ ہو رہا ہے۔ خواتین کے دودھ میں زہریلے کیمیکلز اور نقصاندہ دھاتیں پائے جانے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔