بات چیت کیلئے تیار ہیں لیکن دھونس یا زبردستی قبول نہیں، ایرانی صدر

Wait 5 sec.

تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کو دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ بات چیت کیلئے تیارہیں لیکن دھونس یا زبردستی قبول نہیں کرتے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ہم نے کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی، رہبرِ معظم کے مطابق جوہری ہتھیاروں کی تیاری حرام قرار دی گئی تھی۔اُنہوں نے کہا کہ اگر ایران میں کچھ افراد جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں تو انہیں ایسا مذہبی حق حاصل نہیں۔ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایسے وقت پر رہبر معظم کو شہید کیا جب مفاہمت تک پہنچ چکے تھے، امریکا کا مقصد مسئلے کو حل کرنا نہیں بلکہ ہمارے نظام کا تختہ الٹنا چاہتا ہے۔کشیدگی میں اضافہ کرکے یوکرین مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکتا، پیوٹناُنہوں نے کہا کہ نیتن یاہو تقاریر میں کہتا ہے کہ ان کا مقصد حکومت کا خاتمہ ہے بات چیت نہیں، ہم بات چیت کیلئے مکمل عزم ہیں مگر اس دوران حملہ کیوں کیا جاتا ہے؟۔