ایودھیا واقع رام مندر میں چندہ چوری کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اس معاملہ میں داخل چارج شیٹ سے ہوئے انکشافات پر اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی اور آر ایس ایس کی اعلیٰ قیادت کو نشانے پر لیا ہے۔ انھوں نے اس بارے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ہم نے پہلے دن سے کہا تھا کہ بھگوان شری رام اور ایودھیا مندر میں چڑھاوا کی چوری کی جانچ کے لیے بنائی گئی سرکاری ایس آئی ٹی پر ملک کی عوام کو بھروسہ نہیں ہے۔ اب چارج شیٹ میں سامنے آئی باتوں نے اس جانچ پر اور سرکاری لیپا پوتی پر سنگین سوال کھڑے کر دیے ہیں۔‘‘चंदा चोरी, आस्था धोखाहमने पहले दिन से कहा था कि भगवान श्रीराम के अयोध्या मंदिर में चढ़ावे की चोरी की जांच के लिए बनाई गई सरकारी SIT पर देश की जनता को भरोसा नहीं है। अब चार्जशीट में सामने आए तथ्यों ने इस जांच पर और सरकारी लीपापोती पर गंभीर सवाल खड़े कर दिए हैं।चार्जशीट के… pic.twitter.com/oiujRHgwtp— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) September 26, 2026اس پوسٹ میں جئے رام رمیش نے کچھ اہم حقائق سامنے رکھے ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’چارج شیٹ کے مطابق 4 جون کو 2.25 لاکھ روپے کی رقم باتھ روم میں ملنے کی ویڈیو چمپت رائے کو بھیجی گئی۔ 5 جون کو انھیں سی سی ٹی وی فوٹیج بھی دکھایا گیا۔ اس کے باوجود ایف آئی آر 25 جون کو ہوئی۔‘‘ یہ سچائی سامنے رکھنے کے بعد انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’’جب سی سی ٹی وی، برآمدگی اور مشتبہ ملازمین کی شناخت سامنے آ چکی تھی، تو مجرمانہ کارروائی میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ ان 21 دنوں میں آخر کسے بچانے اور کیا چھپانے کا موقع ملا؟‘‘کانگریس جنرل سکریٹری نے اس پوسٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’’چارج شیٹ کے مطابق سی سی ٹی وی میں چڑھاوے کی رقم ہٹانے سے متعلق 105 واقعات سامنے آئے ہیں۔ ایک ملزم 85 بار رقم ہٹاتے ہوئے دکھائی دیا اور دیگر ملزمین کا کردار بھی بار بار سامنے آیا۔ ایس آئی ٹی کو پتہ تھا کہ سب کچھ پتہ چلنے کے 3 دن بعد بھی چمپت رائے نے چڑھاوا چوری ہونے سے انکار کیا۔ پھر بھی چمپت رائے، انل مشرا اور گوپال راؤ کو ملزم کیوں نہیں بنایا گیا، وہ گواہ کیوں ہیں؟ وہ عوام کا بھروسہ ٹوٹنے کے باوجود ٹرسٹ میں کیوں بنے ہوئے ہیں؟‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ’’کیا جن لوگوں پر انتظام کی نگرانی اور مینجمنٹ کی ذمہ داری تھی، ان کے کردار کی جانچ کیے بغیر چڑھاوا چوری کی پوری حقیقت سامنے آ سکتی ہے؟‘‘اس سوشل میڈیا پوسٹ میں جئے رام رمیش نے کئی طرح کے سوالات اٹھائے ہیں، جو بی جے پی اور آر ایس ایس کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں۔ انھوں نے پوچھا ہے کہ ’’70 سے 105 واقعات سامنے آئے، ہزاروں ڈیجیٹل پیغامات کی جانچ ہوئی، بینک اکاؤنٹس اور ملکیتوں کی جانچ کی بات کی گئی، پھر بھی جانچ کی پہنچ 8 ملزمین تک ہی کیوں محدود رہی؟ کیا ایس آئی ٹی نے پورے سسٹم کی جوابدہی طے کی یا صرف چھوٹے کرداروں تک معاملہ محدود کر دیا؟‘‘ یہ سبھی سوالات قائم کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ ’’سب سے بڑا سوال: کیا اس پورے معاملے کے تار بی جے پی-آر ایس ایس کی سرکردہ قیادت تک پہنچتے ہیں؟ بھگوان شری رام کے نام پر آئے چڑھاوے کی چوری میں اصلی ذمہ داری طے ہونے تک یہ معاملہ ختم نہیں مانا جا سکتا۔‘‘اس پورے معاملہ پر کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے بی جے پی اور آر ایس ایس کو نہ صرف نشانے پر لیا ہے، بلکہ جوابدہی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ انھوں نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ ’’یہ رام بھکتوں کے بھروسہ سے جڑا سنگین معاملہ ہے۔ اس کی جانچ غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہونی چاہیے۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’وزیر اعظم جی خاموشی توڑیے، نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ چوروں کو آپ کا تحفظ حاصل ہے۔‘‘